تجارتی معاہدے پر بروقت عملدرآمد نہیں کیا، ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کا اعلان کر دیا
ٹرمپ کا جنوبی کوریا کی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کا اعلان
پیانگ یانگ (مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی مصنوعات پر ٹیرف بڑھانے کا اعلان کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور امریکہ کے درمیان تجارت کا حجم آٹھ ارب ڈالرسے تجاوز کرنے کا امکان ہے، امریکی ناظم الامور نیٹلی
ٹیرف کی نئی شرح
’’جنگ‘‘ کے مطابق، صدر ٹرمپ نے جنوبی کوریا کی مصنوعات پر ٹیرف 15 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے امریکہ کے ساتھ طے پانے والے تجارتی معاہدے پر بروقت عملدرآمد نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ تنخواہ نہیں لے گی؟ یہ بچت نہیں، ڈرامہ ہے، مونس الہیٰ
جنوبی کوریا کا ردعمل
جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر چیونگ وا ڈے نے صدر ٹرمپ کے بیان پر کہا ہے کہ اسے امریکہ کی جانب سے ٹیرف میں اضافے کی کوئی باضابطہ اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشہور بھارتی کرکٹر کو داعش کا دھمکی بھرا پیغام موصول، حیران کن انکشاف
تجارتی مذاکرات کا ارادہ
غیر ملکی میڈیا کے مطابق، اس صورتحال کے پیش نظر کینیڈا میں موجود جنوبی کوریا کے وزیرِ تجارت کم جنگ کوان نے فوری طور پر امریکہ جانے اور امریکی وزیر تجارت سے ملاقات کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کی گرفتاری کے حوالے سے عظمیٰ بخاری کا بیان آ گیا
نئی ٹیرف کے متاثرہ شعبے
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری کیے گئے اپنے بیان میں کہا کہ ’’ٹیرف کی نئی شرح گاڑیوں، لکڑی، ادویات اور دیگر مصنوعات پر لاگو ہوگی جو امریکی بنیادی لائن ’’باہمی‘‘ (reciprocal tariff) ٹیرف کے تحت احاطہ کرتی ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: سینیٹ کمیٹی برائے ریلویز: وفاقی وزیر حنیف عباسی کی مسلسل غیر حاضری پر شدید برہمی، رویہ غیر سنجیدہ قرار دیا
قانونی شکل کا انتظار
دوسری جانب، وائٹ ہاؤس کی جانب سے تاحال اس فیصلے کو قانونی شکل دینے کے لیے کوئی ایگزیکٹو آرڈر جاری نہیں کیا گیا ہے۔
تجارتی معاہدہ
واضح رہے کہ جولائی میں امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان ایک فریم ورک تجارتی معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت امریکہ نے جنوبی کوریا پر ٹیرف 25 فیصد سے کم کر کے 15 فیصد کرنے پر اتفاق کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت جنوبی کوریا نے امریکہ میں 350 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا تھا۔








