آئی جی سندھ نے مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا
کراچی میں آئی جی سندھ کا بیان
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آئی جی سندھ جاوید عالم نے وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال اور ڈاکٹر خالد مقبول کی سیکیورٹی واپس لینے پر لاعلمی کا اظہار کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ملک میں سونے کی قیمت میں مسلسل دوسرے روز کمی، فی تولہ 3 لاکھ 35 ہزار 200 روپے کا ہوگیا
صحافیوں سے گفتگو
پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ رات سے اسلام آباد میں ہوں، واپس جاکر دیکھوں گا۔ دونوں وزراء کو تھریٹ اسیسمنٹ کمیٹی کی سفارش پر سیکیورٹی دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کے قتل کی منصوبہ بندی کرنے والے نوجوان نے اپنے والدین کو مار دیا، لیکن کیوں؟
کچے کے علاقوں میں کارروائیاں
’’جنگ‘‘ کے مطابق کچے کے علاقوں میں کارروائیوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آئی جی سندھ جاوید عالم کا کہنا تھا کہ لوگوں سے درخواست ہے کہ کسی کے جھانسے میں نہ آئیں، لوگوں کو کچے اور کشمیر سے مرد حضرات لڑکیوں کی آواز میں کال کر کے پھنساتے ہیں۔ مرد ڈاکوؤں کی جانب سے سستے داموں گاڑیاں اور ٹریکٹر خرید کر دینے کا جھانسہ دیا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گردشی قرضوں کی ادائیگی کے لیے بینک حکومت کو آسان شرائط پر قرض دینے پر رضامند ہو گئے، رپورٹ
حکومت کی پالیسی
جب سے عہدہ سنبھالا تب سے ان عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے، مکمل صفایا کیا جائے گا۔ کچے کے ڈاکوؤں پر حکومتی پالیسی ہے، وہ سرنڈر کریں تو قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو آہنی ہاتھوں سے ان کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
کیس میں کارروائی
آئی جی سندھ کا یہ بھی کہنا تھا کہ شکیل اور طاہر تاوان دے کر وہاں سے واپس آئے، ہم نے اس کیس میں ملوث سہولت کاروں کے خلاف بھی کارروائی کی ہے، کانسٹیبل کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔








