وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، برفباری کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، خواجہ آصف
وزیر دفاع کی پریس کانفرنس
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے، یہ کوئی بحران نہیں، وادی تیراہ میں جب برف باری ہوتی ہے نقل مکانی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شراب نوشی کے بعد آدمی کا چہرہ سوج گیا، ڈاکٹر کے پاس گیا تو ایسی خطرناک بیماری کا انکشاف کہ زندگی ہی بدل گئی
برف باری کے دوران نقل مکانی
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ اور وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے خیبرپختونخوا اختیار ولی کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ برف باری کے دوران سرحد پر واقع وادیوں سے نقل مکانی ہوتی ہے، وادی تیرہ میں بھی ہر سال برف باری سے نقل مکانی ہوتی ہے۔ نقل مکانی کرنے والوں کے لیے 4 ارب روپے کے فنڈز رکھے گئے ہیں، نقل مکانی کو بحران کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ یہ نقل مکانی معمول کی بات ہے، کیوں کہ یہ جگہ 17 ہزار فٹ کی اونچائی پر واقع ہے جہاں سخت سردی ہوتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اگر جنگ ہوئی تو بھارت تباہ ہو جائے گا، کھیل داس کوہستانی
جرگہ کا کردار اور معاہدہ
خواجہ آصف نے کہا کہ جرگے کے ارکان کالعدم ٹی ٹی پی کے پاس گئے، کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کے ساتھ وہاں رہتے ہیں۔ صوبائی حکومت اور جرگے کی مشاورت کے بعد نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، یہ معاہدہ صوبائی حکومت کے جرگے میں طے پایا، جس کا نوٹیفکیشن شائع ہوا، وادی تیراہ میں کوئی تھانہ نہیں ہے۔
خیبرپختونخوا حکومت کی ناکامیاں
انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا حکومت اپنی ناکامی کا سارا ملبہ فوج یا ایسے آپریشن پر ڈالنا چاہتی ہے جس کا وجود ہی نہیں، وادی تیراہ میں کئی سالوں سے آپریشن نہیں ہوا، یہ سب مفروضے ہیں۔ 11 دسمبر کو ایک جرگہ ہوا تھا جس میں اہم امور طے پائے اور فیصلہ ہوا کہ علاقے میں اسپتال، اسکول اور تھانے قائم کیے جائیں گے۔








