اختلافِ رائے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں،قیدیوں سے ملاقات اور علاج کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے،شیرافضل مروت
تشویشناک اطلاعات کا سلسلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) رکن پارلیمنٹ شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ سابق وزیرِاعظم پاکستان عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِ خانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود کسی قسم کی شفاف معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جو مزید سوالات کو جنم دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک کا وینزویلا میں مفت انٹرنیٹ سروس کا اعلان
بنیادی حقوق کا تحفظ
اپنے ایکس بیان میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی معاشرے میں اختلافِ رائے یا سیاسی مخالفت کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کر دیے جائیں۔ قیدیوں سے ملاقات، علاج اور معلومات تک رسائی کوئی رعایت نہیں بلکہ آئینی حق ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف انصاف کے تقاضے مجروح ہو رہے ہیں بلکہ ریاستی نظام پر عوام کا اعتماد بھی کمزور پڑ رہا ہے۔
ذمہ دار اداروں سے مطالبہ
ذمہ دار اداروں سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر ملاقاتوں کی اجازت دی جائے، صحت کے حوالے سے حقائق سامنے لائے جائیں اور قانون و انسانیت دونوں کا خیال رکھا جائے۔
سابق وزیرِاعظم پاکستان عمران خان صاحب اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو گزشتہ 105 دنوں سے اہلِ خانہ، وکلاء اور سیاسی قیادت سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جبکہ عمران خان کی صحت کے حوالے سے مسلسل تشویشناک اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود کسی قسم کی شفاف معلومات فراہم نہیں… pic.twitter.com/a4OF0u1UNg
— Sher Afzal Khan Marwat (@sherafzalmarwat) January 27, 2026








