مشرق وسطیٰ میں حالات کشیدہ، امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز میں آمد، ایران نے بھی فوجی مشقوں کا اعلان کر دیا
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی
تہران (ڈیلی پاکستان آن لائن )مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں امریکی بحری بیڑے کی آبنائے ہرمز آمد اور ایران کے فوری ردعمل نے خطے کے سیاسی اور فوجی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: 28 جنوری کو یاسین ملک کو پھانسی دیئے جانے کا خدشہ ہے:مشعال ملک
ایران کی فوجی مشقوں کا اعلان
ایران نے 3 روزہ فوجی مشقوں کا اعلان کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کے قریب اپنی فضائی حدود 25,000 فٹ کی بلندی تک بند کر دی ہیں۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی جہاز ایرانی سمندری حدود میں داخل ہوئے تو ان پر حملہ کیا جائے گا۔ ادھر سعودی عرب نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی فضائی حدود یا سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا، جس سے اس کشیدہ صورتحال میں مزید پیچیدگیاں پیدا ہو گئیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت میں آتش بازی کا سامان بنانیوالی فیکٹری میں دھماکہ، 8 افراد ہلاک
فوجی مشقوں کے تفصیلات
ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب 3 روزہ لائیو فائر فوجی مشقوں کا نوٹس جاری کیا ہے، جس کے مطابق یہ مشقیں 27 تا 29 جنوری تک 5 ناٹیکل میل کے دائرے میں انجام پائیں گی۔ اس دوران 25,000 فٹ تک کی بلندی میں پروازیں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یہ علاقہ خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ماورا حسین نے اداکاری کو خیرباد کہنے کا اشارہ دے دیا
امریکی صدر کا ردعمل
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ایک امریکی بحری بیڑا ایران کی جانب بڑھ رہا ہے اور امید ہے کہ ایران مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کر لے گا۔ امریکی بحری بیڑے میں یو ایس ایس ابراہم لنکن سمیت کئی گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز شامل ہیں، جبکہ لڑاکا طیارے اور جدید فضائی دفاعی نظام بھی خطے میں منتقل کیے جا رہے ہیں۔
تجزیہ اور دفاعی تیاریوں کی اہمیت
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکی افواج خطے میں اپنی تیاریوں کو بڑھا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری ردعمل دیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اقدامات ایران کی جوہری صلاحیت کو محدود کرنے اور خطے میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہیں۔








