ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہوگئی ہیں: جسٹس محسن اختر کے ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف وکیلوں کی ہڑتال پر ریمارکس
اسلام آباد ہائیکورٹ کی کاروائی
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی انسانی حقوق کیلئے سرگرم وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف وکیلوں کی ہڑتال پر برس پڑے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ اور ٹاؤٹ کی “لوّ سٹوری” میں اتار چڑھاؤ ضرور آتے ہیں جس سے ۔ ۔ ۔” اقرارالحسن بھی میدان میں آگئیں
وکلا کی ہڑتال کی وجوہات
اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے کہ عدالت کو بتایا گیا کہ وکلا کی ہڑتال ہے، اسی لیے وکیل پیش نہیں ہوئے، وکلا کی ہڑتال کِس وجہ سے ہے؟
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بجٹ پر پالیسی مذاکرات کل شروع، 23 مئی تک جاری رہیں گے
جسٹس محسن کے سوالات
جسٹس محسن کے سوال پر بیرسٹر خوش بخت نے بتایا کہ ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی گرفتاری کے خلاف ہڑتال ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کے معروف فلم ساز اور ’کے جی ایف 2‘ کے ڈائریکٹر ’کرتن نداگوڑا‘ کا 4 سالہ بیٹا لفٹ میں پھنس کر جاں بحق
بیرسٹر خوش بخت کے جواب کا جواب
جسٹس محسن نے ریمارکس دیئے کہ وہ جن کو خود گرفتار کرایا ہے؟ خود جیل بھجواتے ہیں، پھر ہڑتال کردیتے ہیں۔
جسٹس محسن اختر کیانی کے مزید ریمارکس
جسٹس محسن اختر کیانی نے مزید کہا کہ کتنی اچھی ہماری بار ہے، میڈل ملنا چاہیے، ججز بھی نااہل ہیں اور عدالتیں بھی مردہ ہوگئی ہیں، بار تو دونوں وکلا کو خود جیل چھوڑ کر آئی ہے، بغیر قانون کے جج نے کمال کا فیصلہ دے دیا ہے۔








