سندھ ہائیکورٹ؛ طلباء یونین کی بحالی کی درخواست جرمانے کے ساتھ مسترد
سندھ ہائیکورٹ میں طلباء یونین کی بحالی کی درخواست مسترد
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائیکورٹ میں طلباء یونین کی بحالی سے متعلق دائر درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے درخواست کو جرمانے کے ساتھ مسترد کر دیا۔ عدالت نے درخواست گزار کو 10 ہزار روپے جرمانہ سندھ ہائیکورٹ کے کلینک میں جمع کروانے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: وزارت مذہبی امور نے پرائیویٹ حج اسکیم 2026 کیلئے بکنگ کی تاریخ میں 22 اکتوبر تک توسیع کر دی۔
جج کے ریمارکس
نجی ٹی وی چینل ’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق سماعت کے دوران جسٹس عدنان الکریم میمن نے ریمارکس دیئے کہ طلباء یونین کی بحالی کیوں چاہتے ہیں؟ تعلیم کا شعبہ پہلے ہی تباہ ہے، آپ اسے مزید کیوں برباد کرنا چاہتے ہیں؟
یہ بھی پڑھیں: بھارتی ریاست اتر پردیش میں گھر میں باجماعت نماز ادا کرنے پر 12 افراد گرفتار
طلباء یونین کا مقصد
عدالت نے استفسار کیا کہ طلباء یونین کا مقصد اور اس کا فائدہ کیا ہے؟ جس پر درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ یونین کا مقصد طلباء کو پالیسی سازی میں نمائندگی فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جب متھن چکروتی نے سوشمینا سین کو نامناسب انداز میں چھوا
عدالت کے مزید سوالات
جسٹس عدنان الکریم میمن نے مزید ریمارکس دیئے کہ جس طرح فیکٹریز میں یونین ہوتی ہے، کیا طلباء وائس چانسلر کو دھمکانا چاہتے ہیں؟ عدالت نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ درخواست گزار کی موجودہ حیثیت کیا ہے اور کیا وہ اب بھی طالبعلم ہیں؟
درخواست کا اختتام
عدالت کا کہنا تھا کہ کیس فائل میں 2021ء کے دستاویزات لگے ہوئے ہیں، جس پر درخواست گزار کوئی جواب نہ دے سکا۔ بعد ازاں عدالت نے درخواست مسترد کرتے ہوئے جرمانہ عائد کر دیا۔








