وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو کی ملاقات
وفاقی وزیر تجارت اور ترکیہ کے سفیر کی ملاقات
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)— وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے پاکستان میں تعینات ترکیہ کے سفیر ڈاکٹر عرفان نذیر اوغلو سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارتی تعاون کے فروغ اور خاص طور پر پاکستان سے ترکیہ کی جانب چاول کی برآمدات بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ یہ ملاقات وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی ہدایات کے تحت ہوئی، جنہوں نے زرعی برآمدات، خاص طور پر چاول کی برآمدات کو ترجیح دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سارہ امیر نے اپنی ڈرامائی محبت کی کہانی شیئر کردی
چاول کی پیداوار اور برآمدی سرپلس
گفتگو کے دوران، وفاقی وزیر تجارت نے بتایا کہ رواں سیزن میں پاکستان میں چاول کی بہترین پیداوار ہوئی ہے، جس سے اعلیٰ معیار کے ساتھ وافر برآمدی سرپلس دستیاب ہے۔
یہ بھی پڑھیں: جس معاشرہ میں مظلوم کی داد رسی نہ ہو، جرائم پیشہ لوگوں کو سزا نہ مل سکے، احتساب کا خوف ختم ہو جائے ایسے معاشرے تباہ ہو جاتے ہیں
مارکیٹ تک رسائی کے امور
ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے مارکیٹ تک رسائی سے متعلق اہم امور کو بھی اٹھایا، جن میں ٹیرف ریٹ کوٹاز (TRQs)، درآمدی لائسنسنگ کے طریقۂ کار، اور باسمتی چاول پر صفر یا کم ٹیرف کے امکانات شامل ہیں۔ انہوں نے پاکستان–ترکیہ ترجیحی تجارتی معاہدے (PTA) کے تحت 18 ہزار میٹرک ٹن کے موجودہ TRQ کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ بھی پڑھیں: رینجرز اہلکار پر قاتلانہ حملے کا کیس: عبید کے ٹو کی عمر قید کیخلاف اپیل پر فیصلہ محفوظ
ترکیہ کے سفیر کا پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات مضبوط کرنے کا عزم
ترکیہ کے سفیر نے پاکستان کی تجاویز کا خیرمقدم کیا اور پاکستان کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ مضبوط سیاسی تعلقات کے باوجود، دوطرفہ تجارتی حجم اپنی مکمل صلاحیت سے کم ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امجد ملک پنجاب اوورسیز کمیشن کے وائس چیئرمین مقرر، مسلم لیگ ن جرمنی کی مبارکباد
کاروباری روابط میں اضافہ
دونوں ممالک نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کاروباری برادریوں کے درمیان روابط کو فروغ دیا جائے، جس میں تجارتی وفود، نمائشیں اور بزنس ٹو بزنس سرگرمیاں شامل ہوں گی، تاکہ تجارتی مواقع سے آگاہی بڑھے۔
تکنیکی وفود کی ملاقاتیں
یہ طے پایا گیا کہ آئندہ ہفتوں میں تکنیکی وفود ملاقات کریں گے تاکہ چاول کی تجارت، PTA میں توسیع، اور زراعت و فوڈ پروسیسنگ میں وسیع تر تعاون پر پیش رفت کی جا سکے۔ اس عزم کا بھی اعادہ کیا گیا کہ تکنیکی مشاورت کو تیز کیا جائے گا اور پاکستان کے چاول کی موجودگی کو علاقائی منڈیوں، بشمول پڑوسی ممالک میں دوبارہ برآمدات کے مواقع کے ذریعے مزید وسعت دی جائے گی۔








