پاک، چین شراکت داری نئے دور میں داخل ہو چکی،سی پیک نے ترقیاتی منظرنامے کو بدل دیا ہے : احسن اقبال
پاکستان اور چین کی شراکت داری
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات و خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے، جو محض انفراسٹرکچر تک محدود نہیں بلکہ پیداوار، برآمدات، روزگار اور پائیدار ترقی پر مرکوز ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عاصم منیر چیف آف ڈیفنس فورسز تعینات، ایئرچیف مارشل کی توسیع کے نوٹیفکیشن جاری
سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ
چین پاکستان منرل کوآپریشن فورم سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر یہ شراکت داری تسلسل، اعتماد اور سٹریٹجک گہرائی کی روشن مثال بن چکی ہے۔ سی پیک نے توانائی، سڑکوں، گوادر بندرگاہ اور قومی رابطہ کاری کے ذریعے پاکستان کے ترقیاتی منظرنامے کو یکسر بدل دیا ہے۔ سی پیک 2.0 پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی کے فریم ورک اُڑان پاکستان سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہے، جس کا مقصد 2035 تک ایک کھرب ڈالر کی معیشت کی تشکیل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلمان خان کو بشنوئی برادری سے معافی مانگنے کا مشورہ مل گیا
معدنی شعبے کی اہمیت
انہوں نے بتایا کہ حالیہ دورۂ چین کے دوران اُڑان پاکستان کےفائیوایز کو صدر شی جن پنگ کے ترقی کے فائیو گروتھ کوریڈورز کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے، جس سے منصوبہ بندی، سرمایہ کاری اور عملدرآمد میں ہم آہنگی پیدا ہوگی۔ معدنی شعبہ اُڑان پاکستان میں برآمدات کے ہدف کے حصول کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے معدنی وسائل کی مالیت تقریباً 6 کھرب ڈالر ہے، تاہم معدنی برآمدات اس وقت محض 2 ارب ڈالر سالانہ ہیں۔ بہتر حکمرانی، جدید ٹیکنالوجی اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے معدنی برآمدات کو 6 سے 8 ارب ڈالر سالانہ تک بڑھایا جا سکتا ہے اور لاکھوں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: مری میں بھی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا فیصلہ
معدنی تعاون میں ترقی
وفاقی وزیر احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ چین کے ساتھ معدنی تعاون کو نکاسی سے آگے بڑھا کر ویلیو ایڈیشن، پراسیسنگ، اسمیلٹنگ اور ریفائننگ کی جانب لے جانا وقت کی ضرورت ہے۔ سائنڈک، دودر اور تھر جیسے منصوبے اس تعاون کی کامیاب مثالیں ہیں، جبکہ حالیہ سرمایہ کاری معاہدے اس شعبے میں بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ مریم نواز سے فلپائن کے سفیر ڈاکٹر ایمینوئیل آر فرنینڈز کی ملاقات، پنجاب میں سرمایہ کاری کی پیشکش
پائیدار ترقی اور سرمایہ کاری کی حفاظت
احسن اقبال نے اس بات پر زور دیا کہ معدنی ترقی کو پائیدار، ماحول دوست اور علاقائی شمولیت پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا جیسے وسائل سے مالا مال علاقوں کو روزگار، تعلیم اور صحت کی سہولیات میں حقیقی فوائد حاصل ہوں۔
حفاظت کی اقدامات
انہوں نے واضح کیا کہ چینی شہریوں اور سرمایہ کاری کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلی ٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کے تحت مؤثر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔








