ارجیت سنگھ کی گلوکاری چھوڑنے کی وجہ سامنے آگئی۔
اریجیت سنگھ کی گلوکاری سے کنارہ کشی
ممبئی(ڈیلی پاکستان آن لائن) بھارت کے نامور پلے بیک سنگر اریجیت سنگھ نے گلوکاری سے کنارہ کشی کی وجہ بالی ووڈ کے غیر منصفانہ معاوضے کے نظام کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ’وہ فنکاروں کو مار رہے ہیں‘۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے یکم جنوری سے غیرملکی کرنسی کی خرید و فروخت کے لیے بڑی شرط عائد کردی
مداحوں اور انڈسٹری کا حیران ہونا
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ روز اریجیت سنگھ کی جانب سے بطور پلے بیک سنگر پرفارم کرنا چھوڑنے کے کے فیصلے نے نہ صرف ان کے مداحوں بلکہ پوری فلم انڈسٹری کو حیران کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عوام کے نمائندے عوام میں ہوتے ہیں، آپ عوام کی بات سننے کو تیار نہیں:شاہد خاقان عباسی
بھارتی کلاسیکی موسیقی کی جانب رجوع
اریجیت سنگھ اپنی سولڈ آؤٹ پرفارمنسز اور تقریباً تمام بڑی بالی ووڈ فلموں میں گانوں کے باعث عروج پر پہنچے مگر اپنے کیریئر کے عین عروج پر اریجیت نے فلمی دنیا سے پیچھے ہٹ کر بھارتی کلاسیکی موسیقی میں اپنی دلچسپی کو اپنانے کا فیصلہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت نے اگلے 15 روز کیلئے پیٹرول کی قیمت کا نوٹفکیشن جاری کردیا
غور و خوض کا وقت
اگرچہ یہ اعلان بہت سے لوگوں کے لیے غیر متوقع تھا، تاہم اریجیت اس فیصلے پر کافی عرصے سے غور کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: انگریزوں کے زمانے میں چھانگا مانگاکا مصنوعی جنگل اور سیاحوں کے لیے ریل گاڑی
اپنی شناخت کا احساس
مختلف انٹرویوز میں انہوں نے اپنی ذاتی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی شناخت اور آواز سے ایک وقت میں عدم وابستگی محسوس ہونے لگی، یہاں تک کہ ان کا اپنا نام بھی انہیں ناگوار لگنے لگا۔
یہ بھی پڑھیں: کیا آپ صرف ایک شخص کا نام بتا سکتے ہیں جو آپ کے پاس ڈیل لیکر آیا؟ وزیر داخلہ محسن نقوی کا عمران خان کے ٹوئٹ پر سوال
شہرت کا بوجھ
2023 میں دی میوزک پوڈکاسٹ کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں اریجیت نے اس دور کو یاد کیا جب شہرت ان پر بوجھ بننے لگی تھی۔
اریجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ ایک وقت تھا جب میں اپنے نام اریجیت سنگھ سے خود کو جوڑتا تھا۔ مگر جیسے جیسے میں بڑا ہوا، ایک مرحلہ ایسا آیا کہ اپنا نام سن کر ہی کوفت ہونے لگتی تھی۔ ہر طرف لوگ میرا نام پکار رہے ہوتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلزپارٹی کے اعتراض کے بعد حکومت نے 27 ویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ کو نہ چھیڑنے کا عندیہ دے دیا
گانے سننے میں مشکل
انہوں نے کہا کہ شروع میں یہ سب بہت بھاری محسوس ہوتا تھا، مگر پھر مجھے احساس ہوا کہ یہ نام اب میں نہیں رہا، بلکہ لوگوں کی بنائی ہوئی ایک شبیہ ہے، اسے سن کر مجھے چڑ ہونے لگتی تھی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک وقت ایسا بھی آیا جب مجھے اپنے ہی گانے سن کر کوفت ہوتی تھی۔ اب ایسا نہیں ہوتا، میں بس نظرانداز کر دیتا ہوں، پہلے میں اس بات پر بہت سخت تھا کہ اپنے گانے نہ سنوں، یہاں تک کہ گھر میں کوئی میرا گانا نہیں چلاتا تھا، بعد میں میں اس معاملے میں کچھ نرم پڑ گیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاک ،ترکیہ تعلقات باہمی احترام، مشترکہ اقدار اور پائیدار ثقافتی روابط پر مبنی ہیں: وزیر خزانہ پنجاب
ادائیگی کے طریقہ کار کی تنقید
اریجیت سنگھ نے موسیقی کی صنعت میں غیر منصفانہ ادائیگی کے طریقہ کار پر بھی تنقید کی، ان کا کہنا تھا کہ یہی عوامل آخرکار فنکاروں کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔
محنت کا مناسب معاوضہ
ادائیگی کے بغیر بھی اریجیت نے دعویٰ کیا کہ بیشتر فنکاروں کو ان کے کام کے مطابق معاوضہ نہیں ملتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کچھ باتیں واضح ہونا چاہیے، یا تو کیے گئے کام کا مناسب معاوضہ دیں، یا پھر کام ہی نہ دیں جب کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہیں ان کی محنت کے تناسب سے ادائیگی نہیں ہوتی۔








