عمران خان باہر ہوتے تو یہ بورڈ آف پیس بن ہی نہیں سکتا تھا ، سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس
قائد حزب اختلاف کا بیان
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) قائد حزب اختلاف سینیٹ اور وائس چیئرمین تحریک تحفظ آئین پاکستان سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس کا کہنا ہے کہ ایک فیصد عوام بھی انکے ساتھ نہیں ہے۔ اگر کوئی مہذب معاشرہ ہوتا تو اب تک مستعفی ہو کر دوبارہ الیکشن کروا دیتے لیکن انکو لگتا ہے کہ حساب نہیں ہو گا۔ حساب ضرور ہو گا، جواب دینا ہو گا۔ 8 فروری کو بھی عوام نے بھرپور جواب دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نجی سکول نے گرمیوں کی چھٹیوں سے ہی ماہانہ فیسوں میں غیرقانونی طور پر 20 فیصد اضافہ کردیا
میڈیا سے گفتگو
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان اگر باہر ہوتے تو یہ بورڈ آف پیس بن ہی نہیں سکتا تھا۔ انہوں نے عمران خان کو اندر رکھ کر تمام کوششیں کر کے دیکھ لیں اور مجبور ہو کر 8 فروری کا الیکشن کروایا لیکن عوام نے پھر انکو بھرپور جواب دیا اور انہیں مسترد کر دیا۔ عمران خان پاکستان کے عوام کے دلوں میں بستے ہیں اور ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بشار الاسد شام چھوڑنے سے پہلے صدارت سے مستعفی ہوگئے تھے، روسی حکام
عمران خان کے ساتھ سلوک
ایسے شخص کے ساتھ یہ سلوک جس نے پاکستان کے باوقار وزیرِ اعظم کے طور پر خدمات انجام دیں، جس پر کسی قسم کی بدعنوانی ثابت نہیں ہوئی، جس نے نہ شوگر مل لگائی اور نہ اسٹیل مل، نہ بیرونِ ملک بڑے بینک بیلنس بنائے۔ ایسا رہنما جسے عوام محبت کی حد تک چاہتے ہیں، اسے عوام سے کاٹنے کی کوشش کرنا، اہلِ خانہ اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات نہ ہونے دینا، انصاف کے تقاضوں کے برعکس ہے۔
تشویش کی صورتحال
یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور نہ خاندان کو اطلاع دی گئی، نہ پارٹی قیادت کو آگاہ کیا گیا، تو یہ صورتحال مزید تشویش پیدا کرتی ہے۔








