افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین قیدیوں کی تعداد بڑھ کر ایک ہزار 825 تک پہنچ گئی
افغانستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ
کابل (ڈیلی پاکستان آن لائن) افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد خواتین قیدیوں کی تعداد میں 435 فیصد اضافہ ہوا ہے اور یہ تعداد بڑھ کر ایک ہزار 825 تک پہنچ گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف سات ماہ میں 25 آدمیوں سے شادی کرکے انہیں لوٹنے والی خاتون گرفتار
جیلوں میں خواتین کی صورتحال
افغان میڈیا کا بتانا ہے کہ طالبان کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت خواتین کو ملک کی 34 جیلوں میں رکھا گیا ہے۔ سب سے زیادہ 469 خواتین کابل میں قید ہیں، جو کسی ایک مقام پر خواتین قیدیوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔ زیر حراست خواتین کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں 18.7 فیصد بڑھی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی کے ایل آئی میں جگر کی پیوند کاری کے 1ہزار کامیاب آپریشن مکمل ہو گئے۔
ماضی کے مقابلے میں موجودہ صورتحال
افغان میڈیا کا کہنا ہے کہ 2001 سے 2021 تک جمہوری دور کے دوران افغانستان میں خواتین قیدیوں کی تعداد کبھی بھی ایک ہزار سے زیادہ نہیں ہوئی۔
مجموعی قیدیوں کی تعداد
15 اگست 2021 کو طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے تقریباً چار سال بعد ملک میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 24 ہزار 446 تک پہنچ گئی ہے، جن میں ایک ہزار 825 خواتین ہیں۔








