امریکہ اور جرمنی کی طرح فوری طور پر قانون سازی کر کے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والوں کی دولت واپس پاکستان لانے کا مطالبہ
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 290
یہ بھی پڑھیں: مزاحمت کے بعد مفاہمت ہی ہوتی ہے، شاہ محمود قریشی کھل کر بول پڑے
قائد اعظم کے ارشادات: کالا دھن اور آف شور کمپنیوں کا کردار
سٹیزن کونسل آف پاکستان تھنک ٹینک کے زیر اہتمام ”قائداعظم کے ارشادات: کالا دھن اور آف شور کمپنیوں کا کردار“ کے موضوع پر ایک سیمینار بتاریخ 3 جون 2016ء لاہور ہائی کورٹ لاہور کے کراچی شہدا ء ہال میں منعقد ہوا جس میں وکلاء، ڈاکٹرز، انجینئرز، پروفیسرز اور سول سوسائٹی کے ارکان کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سیمینار ہذا سے چیف جسٹس (ر) لاہور ہائی کورٹ میاں اللہ نواز، قیوم نظامی، ڈاکٹر رفیق احمد، رانا امیر احمد خاں (صدر سٹیزن کونسل) سیکرٹری ظفر علی راجا، احمد بلال صوفی، ماہر بین الاقوامی قانون اور سید علی ظفر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے خطاب کیا۔
سیمینار ہذا میں ثروت روبینہ کی پیش کردہ ایک قرارداد کو متفقہ طور پر پاس کیا گیا۔ جس میں کہا گیا ہے کہ بے شک آف شور کمپنیوں میں اکاؤنٹ کھولنا قانونی جرم نہ سہی لیکن پبلک سرونٹس / بیورو کریٹس اور قومی خدمت کا نعرہ لگا کر سیاست کاری کرنے والے عوامی نمائندگان کیلئے یہ امر انتہائی شرم ناک اور حب الوطنی کے تقاضوں کے منافی ہے کہ وہ وطن عزیز میں سرمایہ کاری کرنے کی بجائے پاکستان سے لوٹی گئی دولت دبئی، سوئٹزر لینڈ، فرانس، امریکہ، برطانیہ، ملائیشیا اور دیگر ممالک لے جائیں اور ریاست پاکستان کے ہاتھوں میں کشکول تھما دیں۔
لہٰذا ہم حکومت پاکستان اور دیگر تمام پارلیمانی سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ امریکہ اور جرمنی کی طرح فوری طور پر قانون سازی کر کے بیرون ملک جائیدادیں بنانے والوں کی دولت واپس پاکستان لانے کا اہتمام کریں اور منی لانڈرنگ کے مرتکب افراد خواہ وہ کتنے بڑے اثر و رسوخ کے مالک ہوں ان کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نبٹا جائے۔
پاکستان میں جاری دہشت گردی
تھنک ٹینک سیٹزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام پاکستان میں جاری دہشت گردی کے مسئلہ کے حل کے موضوع پر 15 اگست 2013ء کو ہمدرد ہال لاہور میں منعقدہ سیمینار سے انٹیلی جنس بیورو پاکستان کے سابق ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل میجر (ر) محمد شبیر احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب، بلوچستان، سندھ اور خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کا طریقہ واردات اور مقاصد الگ الگ ہیں۔
اغواء کاروں، بھتہ خوروں، ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں کی سرکوبی کے لیے سپیشل دستے اور اعلیٰ فورس قائم کی جائے اور جہاں ضرورت ہو سول حکومت مدد کے لیے پاکستان کی بری، بحری اور ہوائی فوج کو بھی ملٹری ایکشن کرنے کے لیے فری ہینڈ دیا جائے۔ اگلے 4 ماہ میں دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے تاکہ 2014ء سے پاکستان دنیا میں ایک پرامن اور دہشت گردی سے پاک ملک کے طور پر جانا جائے۔ وطن عزیز کو شاہرائے ترقی پر گامزن کرنے کا یہی واحد راستہ ہے۔
اجلاس سے دیگر خطاب کرنے والوں میں ظفر علی راجا، پروفیسر شفیق جالندھری، سابق آئی جی پولیس الطاف قمر، ڈاکٹر محی الدین، پروفیسر مشکور صدیقی اور پنجاب یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر فرح زیبا کے اسمائے گرامی شامل ہیں۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








