موقع سب کے لیے ہے، بیڈ پر جیسے زلزلہ سا آیا ہو، تمام مانیٹر جو صفر پر تھے چل پڑے، نئی زندگی کا سفر، لمحوں میں مردہ شخص میں زندگی لوٹ آئی تھی
مصنف کی تفصیلات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 422
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے 6 مزید ایل این جی کارگو عالمی مارکیٹ منتقل کردئیے
کسی کی قسمت کا فیصلہ
موقع سب کے لئے ہے۔ کس نے پار ہونا یہ فیصلہ اللہ کا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے۔ عین ممکن ہے آپ کی نظر میں کوئی معمولی نوعیت کا کیس آیا ہو اور آپ حیران ہوں کہ اس سیدھے سادے سے کیس کا فیصلہ اب تک کیوں نہیں کیا گیا جبکہ آپ سے پہلے بھی کئی افسران کی نظر سے وہ معاملہ گزرا ہو۔ سر! پھر اگلے ہی چند روز میں آپ کیس کا فیصلہ سنا دیں۔ یہی وہ نیکی ہے جس کی طرف اشارہ مولا علیٰ ؓ نے اپنے فرمان میں کیا ہے۔ یعنی آپ سے پہلے افسران کیوں اس کیس کا فیصلہ نہ کر سکے۔ وجہ صاف تھی اللہ کے ہاں یہ نیکی آپ کے کھاتے میں لکھی گئی تھی۔” یہی وہ نقطہ ہے جو سمجھانے کی بات کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آوارہ کتوں کو فائرنگ اور زہر سے مارنے کے خلاف درخواست دائر
کمشنر کے ساتھ گفتگو
کمشنر میری دی گئی explanation سے متفق ہوتے بولے؛”میں نے ایسے ہی ایک کیس کا فیصلہ چند دن پہلے ہی کیا تھا جو عرصہ دراز سے التواء کا شکار تھا۔ ڈاکٹر! بات سمجھ آئی ہے کیا؟“ وہ بولے؛”جی سر! ڈاڈی سمجھ آئی ہے۔“ میں نے کمشنر سے کہا؛”سر! اللہ نے بہاول پور میں مجھ سے بھی ایک کام لینا تھا وہ لے چکا اور میں سمجھتا ہوں میرا یہاں آنے کا مقصد بھی اللہ نے پورا کر دیا۔“ وہ بولے؛”کیسے؟“ میں نے بتایا؛”سر! یہاں ایک شخص ہے جہاں زیب۔ بلدیہ بہاول پور کا افسر اور بلڈ پریشر کا مریض۔ وہ بیمار ہوا اور مر گیا لیکن ابھی اس کی زندگی کے چند سال باقی تھے۔ سر! وہ پھر سے زندہ ہو گیا۔“
یہ بھی پڑھیں: بین الملکی تعلقات کی بہتری کیلئے ثقافتی سفارتکاری اہم ہے: اسحاق ڈار
جہاں زیب کی کہانی
وہ مسکرا دئیے اور میری بات پر یقین کئے بغیر بولے؛”آپ کیا بات کر رہے ہیں؟ ہوش میں تو ہیں شہزاد صاحب۔“ ان کی بات سن کے میں بھی ہنس دیا اور مسکراتے بولا؛”سر! جب عامر نے یہ بات مجھے سنائی تھی تو میرا بھی ایسا ہی رد عمل تھا۔ میرا رد عمل دیکھ کر وہ مجھے اس کے گھر لے گیا۔“ باقی کی بات میں جہاں زیب کی زبانی سناتا ہوں آپ کو۔ محفل میں سناٹا طاری ہو گیا تھا۔ سبھی ہمہ تن گوش تھے۔
وہ پھر زندہ ہو گیا؛
”سر! وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کے دورہ بہاول پور کے دوران میرا بلڈ پریشر اچانک بڑھا، میں بے ہوش ہو گیا اور مجھے وکٹوریہ ہسپتال بہاول پور لایا گیا۔ چند دن کے علاج سے جانبر نہ ہو سکا اور میری موت ہو گئی۔ ڈاکٹروں نے میرے پیر باندھ دئیے اور مردہ قرار دے دیا۔ میرا بھائی میرے بیڈ کے سرہانے کھڑا گریہ زاری کر رہا تھا کہ اس نے اپنے ایک ڈاکٹر دوست کو فون کیا۔ وہ آیا اس نے مجھے کوئی ڈرپ لگائی۔ ڈرپ ختم ہوئی تو اس نے میرے بھائی سے کہا؛”سوری یار! جو اللہ کو منظور تھا۔” یہ کہہ کر وہ کمرے سے جانے لگا تو میرے بیڈ پر جیسے زلزلہ سا آیا ہو۔ تمام مانیٹر جو صفر پر تھے چل پڑے۔ بلڈ پریشر صفر سے اوپر کی طرف آنے لگا اور یہی حال ہارٹ بیٹ کا تھا۔ صفر سے میرا دوبارہ سفر شروع کر چکا تھا۔ نئی زندگی کا سفر۔ لمحوں میں مردہ شخص میں زندگی لوٹ آئی تھی۔ میرے بھائی کی چیخ سن کر سارے ڈاکٹر اور سٹاف جمع ہو گیا۔ ایک معجزہ تھا، دیکھنے والی سبھی آنکھیں کھلی اور سبھی چہرے حیران تھے۔ ایسا انہوں نے بھی زندگی میں شاید پہلی اور آخری بار دیکھا تھا۔ سبھی کی زبان پر سبحان اللہ کا ورد تھا۔
یہ بھی پڑھیں: کرکٹ ایک کھیل نہیں بلکہ عوام کو جوڑنے اور امن کو فروغ دینے کا سبب ہے، کھیل کی اصل روح کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے، وزیراعظم
اللہ کی عنایت
اس بات کو کچھ برس بیت گئے ہیں۔ میرا وقت گزر رہا ہے۔ اللہ کی خاص عنایت ہے مجھ پر۔ میں زندہ اللہ کے معجزہ کی صورت سب کے سامنے ہوں۔” دوران گفتگو وہ ہر جملے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتا تھا۔ میری بات ختم ہوئی تو سننے والوں کے منہ بھی ویسے ہی کھلے تھے جیسا میرا منہ جہاں زیب بھائی کی بات سنتے کھلے کا کھلا رہ گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری ڈرائیور کے ٹک ٹاکر بیٹے پر پیکا ایکٹ کے تحت پرچہ کٹ گیا
جہاں زیب کی درخواست
میں نے کمشنر سے کہا؛”سر! میں نے جہاں زیب کی بات سن کر اس سے پوچھا؛”جہاں زیب بھائی! میں آپ کے لئے کچھ کر سکتا ہوں؟“ وہ بڑی عاجزی سے کہنے لگا؛”سر! میری پنشن رکی ہوئی ہے۔ میرا کیس لاہور لوکل گورنمنٹ بورڈ میں ہے۔ آپ دلوا دیں تو زندگی بھر احسان مند رہوں گا۔ اگلے ماہ میری بیٹی کی شادی ہے۔ اسے عزت سے رخصت کر سکوں گا۔“
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








