افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا؟ عدالت نادرا حکام پر برہم
عدالت کا نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے فیملی ٹری میں غیر متعلقہ شخص کو شامل کرنے کے خلاف درخواست پر سماعت کے دوران نادرا حکام پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی امداد حضور ﷺ کی تعلیمات پر عملداری کا عملی نمونہ ہے: سہیل شوکت بٹ
درخواست گزار کی شکایت
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت میں درخواست پر سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ افغان شہری کو درخواست گزار کی فیملی ٹری میں شامل کر لیا گیا ہے، اب درخواست گزار کی پوری فیملی کے قومی شناختی کارڈ بلاک کر دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ترکیہ میں کردستان ورکرز پارٹی کی تحلیل، وزیراعظم نے اعلان کو خوش آئند قرار دیدیا
جسٹس عدنان الکریم میمن کا ردعمل
اس پر جسٹس عدنان الکریم میمن نے نادرا کے حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ افغان شہری کو پاکستانی خاندان میں کیسے شامل کر دیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: افسوس پیسے کی چمک، رشتوں کی قدر اور احساس بھی بھلا دیتی، باہر جانے والوں میں اکثر یت غریب گھرانوں سے تھی، وہاں جاکر جم کر محنت کرتے۔
فیملی کے شناختی کارڈز کا مسئلہ
جسٹس عدنان الکریم میمن نے استفسار کیا کہ یہ تو پاکستانی ہیں ان کے شناختی کارڈز کیوں بلاک کر دیے گئے؟ ایک شخص کی وجہ سے پوری فیملی کو کیوں پھنسایا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: نتاشا کی شوبز دُنیا میں واپسی: ہاردک پانڈیا سے طلاق کے بعد کی کہانی
عدالت کا حکم
عدالت نے حکم دیتے ہوئے مزید کہا کہ اگر کوئی غیر متعلقہ شخص درخواست گزار کی فیملی میں شامل ہے تو نام خارج کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر مملکت آصف علی زرداری کو ہٹانے سے متعلق سوال پر وزیر داخلہ محسن نقوی کا جواب
جسٹس ذوالفقار علی کے ریمارکس
جسٹس ذوالفقار علی نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پیسے لے کر ہر فیملی میں پتہ نہیں کتنے بندے شامل کر دیے ہوں گے۔
سماعت کی تفصیلات
بعد ازاں عدالت نے نادرا کو 10 روز میں پوری فیملی کی قانونی دستاویزات کا جائزہ لینے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔








