پاکستان کے ہر شہری پر کتنا قرض ہے؟ حیرت انگیز انکشاف

پاکستان پر قرضے کا بوجھ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)گزشتہ مالی سال کے دوران ہر پاکستانی شہری پر قرضے کا بوجھ 13 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 33 ہزار روپے تک پہنچ گیا، جبکہ بڑھتا ہوا عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک سنگین معاشی چیلنج بن گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چھاج تو بولے سو بولے، چھلنی بھی بولے جس میں ہزار چھید، تربیت اور ذہنیت پر باتیں آپ کے منہ سے اچھی نہیں لگتیں، شفیع جان کا عظمیٰ بخاری کے بیان پر ردعمل

بجٹ رپورٹ کا انکشاف

نجی ٹی وی چینل ہم نیوز کے مطابق یہ انکشاف وزارتِ خزانہ کی جانب سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی سالانہ فِسکل پالیسی اسٹیٹمنٹ میں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: کوشش کی جا رہی ہے کہ مجھے گرفتار کر کے قید میں رکھا جائے: علیمہ خان

قرضہ میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق مالی سال 2023-24 میں فی کس قرضہ 2 لاکھ 94 ہزار 98 روپے تھا، جو مالی سال 2024-25 میں بڑھ کر 3 لاکھ 33 ہزار 41 روپے ہو گیا۔

یوں ایک ہی سال میں ہر شہری پر قرضے میں تقریباً 39 ہزار روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کا تخمینہ ملک کی 24 کروڑ 15 لاکھ آبادی کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: 26ویں اور 27 ویں ترمیم سے اختلاف، لاہور کے سول جج سید جہانزیب بخاری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

حکومت کی مالی حالت

وزارتِ خزانہ کے مطابق جون 2024 سے جون 2025 کے دوران مجموعی عوامی قرضہ 71.2 کھرب روپے سے بڑھ کر 80.5 کھرب روپے تک پہنچ گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ قرضے میں اضافے کی بڑی وجوہات بلند شرحِ سود اور زرِ مبادلہ کی قدر میں تبدیلی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کا چینی قرض ری شیڈول کرانے کا فیصلہ

فیسکل پالیسی کے مسائل

دستاویز میں تسلیم کیا گیا ہے کہ گزشتہ مالی سال کے دوران عوامی قرضہ حکومت کے لیے ایک بڑا مسئلہ رہا۔ فِسکل ریسپانسبلٹی اینڈ ڈیٹ لمیٹیشن ایکٹ (FRDL) کے تحت وفاقی حکومت پابند ہے کہ مالی سال کے اختتام پر پارلیمنٹ میں مالی پالیسی بیان پیش کرے۔

یہ بھی پڑھیں: بلوچستان میں ٹرین سروس ایک بار پھر معطل کر دی گئی

وفاقی مالی خسارہ

رپورٹ کے مطابق وفاقی مالی خسارہ جی ڈی پی کے 6.2 فیصد تک پہنچ گیا، حالانکہ قانون کے تحت اس کی زیادہ سے زیادہ حد 3.5 فیصد مقرر ہے۔ اس طرح حکومت نے قانونی حد سے تقریباً 3 کھرب روپے زائد خسارہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پہلے وہ لبنان پھر یمن اور اب ایران آگئے، اگر ہم نہ بولے تو وہ ہم پر آئیں گے تو کوئی بولنے والا نہیں ہوگا: بلاول

اخراجات کی تفصیلات

مزید بتایا گیا کہ مجموعی عوامی قرضہ جی ڈی پی کے 67.6 فیصد سے بڑھ کر 70.7 فیصد ہو گیا۔ اسی عرصے میں حکومت نے نئے محکمے قائم کیے، وفاقی کابینہ میں توسیع کی، اور نئی گاڑیاں و فرنیچر خریدے، حالانکہ سرکاری سطح پر کفایت شعاری کے دعوے کیے جاتے رہے۔

یہ بھی پڑھیں: سی ایم نسپکشن ٹیم کے ہسپتالوں کے طوفانی دورے، بد انتظامی پرایم ایس جہلم کی چھٹی، سوہاوہ کے ایم ایس کو وارننگ

اخراجات کا بجٹ

وزارتِ خزانہ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں وفاقی اخراجات کا بجٹ 18.9 کھرب روپے رکھا گیا تھا، جن میں سے 17.2 کھرب روپے موجودہ اخراجات پر مشتمل تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ وفاقی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.7 فیصد کے برابر اضافی اخراجات کیے۔

یہ بھی پڑھیں: یوکرین کا روسی ایس یو 35 فائٹر جیٹ مار گرانے کا دعویٰ

ٹیکس وصولیاں

ٹیکس وصولیاں 11.7 کھرب روپے رہیں، جو 13 کھرب روپے کے مقررہ ہدف کا 90.5 فیصد بنتی ہیں، تاہم نان ٹیکس آمدن توقعات سے بہتر رہی اور 5.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی۔

ترقیاتی اور دفاعی اخراجات

دوسری جانب ترقیاتی اخراجات 1.7 کھرب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 1.4 کھرب روپے رہے، جبکہ دفاعی اخراجات بجٹ سے تجاوز کرتے ہوئے 2.2 کھرب روپے تک پہنچ گئے۔ سود کی ادائیگیوں پر 8.8 کھرب روپے خرچ کیے گئے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...