پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر اعتراض برقرار
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے موقع پر پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کے خلاف درخواست آفس اعتراض برقرار رکھتے ہوئے واپس کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: فوج صرف پریس کانفرنس کر کے جواب دے رہی ہے، ورنہ اس سے بہت کم گناہ کرنے پر مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی رہی ہیں، مصطفیٰ کمال
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کسی بھی لیڈر کی تصویر پتنگ پر چھاپنے پر پابندی عائد کی گئی، گانوں پر پابندی عائد کی گئی جن میں نک دا کوکا بھی شامل ہے، نک دا کوکا فحش گانا ہے نہ کوئی سیاسی گیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موٹروے پولیس کی دھند کے موسم کیلئے ٹریول ایڈوائزری جاری
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے مطابق اس گانے میں ایک بول میں بانی پی ٹی آئی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی، پابندی سے بسنت جیسے تہوار میں بھی سیاسی بدنیتی نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے توانائی شعبے پر منفی اثرات، پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
عدالت کی ہدایات
درخواست میں مزید کہا کہ ڈی سی کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، عدالت تصاویر اور گانوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
سماعت کے دوران کے ریمارکس
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں نے لیکچر نہیں سننا، آپ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ دستاویزات لف کریں، آپ پہلے آفس اعتراض دور کریں پھر سماعت ہوگی، رجسٹرار افس نے اعتراض عائد کیا ہے کہ درخواست کے ساتھ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ صفات مدھم ہیں، عدالت نے درخواست گزار کو آفس اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔








