پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کیخلاف درخواست پر اعتراض برقرار
لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ نے بسنت کے موقع پر پتنگوں پر تصاویر چھاپنے اور گانوں پر پابندی کے خلاف درخواست آفس اعتراض برقرار رکھتے ہوئے واپس کر دی۔
یہ بھی پڑھیں: ویرات کوہلی کی ایک ’’غلطی‘‘ نے اونیت کور کی قسمت بدل دی
سماعت کی تفصیلات
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے شیخ امتیاز کی درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار کی جانب سے اظہر صدیق ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور موقف اختیار کیا کہ کسی بھی لیڈر کی تصویر پتنگ پر چھاپنے پر پابندی عائد کی گئی، گانوں پر پابندی عائد کی گئی جن میں نک دا کوکا بھی شامل ہے، نک دا کوکا فحش گانا ہے نہ کوئی سیاسی گیت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کال سینٹر میں کام کرنے والی 24 سالہ لڑکی پر اسرار طور پر جاں بحق، پولیس کی دوڑیں لگ گئیں
درخواست گزار کا مؤقف
درخواست گزار کے مطابق اس گانے میں ایک بول میں بانی پی ٹی آئی کا ذکر ہے جس کی وجہ سے پابندی عائد کی گئی، پابندی سے بسنت جیسے تہوار میں بھی سیاسی بدنیتی نظر آتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈاکٹر ضیاء فارماسیوٹیکلز پنجاب جونیئر ٹینس چیمپئن شپ سیمی فائنل مرحلے میں داخل
عدالت کی ہدایات
درخواست میں مزید کہا کہ ڈی سی کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر قانونی ہے، عدالت تصاویر اور گانوں پر پابندی کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے۔
سماعت کے دوران کے ریمارکس
دوران سماعت عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میں نے لیکچر نہیں سننا، آپ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ دستاویزات لف کریں، آپ پہلے آفس اعتراض دور کریں پھر سماعت ہوگی، رجسٹرار افس نے اعتراض عائد کیا ہے کہ درخواست کے ساتھ پابندی کا نوٹیفکیشن اور کچھ صفات مدھم ہیں، عدالت نے درخواست گزار کو آفس اعتراضات دور کرنے کی ہدایت کر دی۔








