رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے: برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اسرائیل جنگ بندی کے بعد اسرائیل کا یمن میں بڑا فضائی حملہ
غلط برطرفی کا شکار ملازمین کے حقوق
نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات پانے کے حقدار قرار ہے۔ سپریم کورٹ نے بقایا جات ادائیگی کے فیصلے کے خلاف سرکاری اپیلیں مسترد کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف کے مملکت سعودی عرب کے دورے کے حوالے سے مشترکہ اعلامیہ
پولیس اہلکاروں کی بحالی
سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو برطرفی واجبات کا حقدار قرار دے دیا۔ عدالت نے برطرف پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کے اندر تمام بقایا جات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سری لنکا کے سابق نیول چیف گرفتار، کیوں گرفتار کیا گیا؟ وجہ بھی سامنے آ گئی
پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور
سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔
یہ بھی پڑھیں: نوجوان بغیر تحقیق کے منفی بیانیے کی اندھی تقلید کے بجائے مثبت سوچ اپنائیں: سرفراز بگٹی
فیصلے میں شعر اور حوالہ
فیصلے کے آغاز میں درج نظم کے الفاظ یہ تھے کہ ’’انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔‘‘ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیا گیا کہ ’’رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھیں: ہرنائی میں جھڑپ، 3 دہشتگرد ہلاک، میجرسمیت 2 جوان شہید
آئینی تحفظات
سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ اب حاکمیت کے کلچر کے بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امیر مردوں سے شادی کر کے لوٹنے والی دلہن گرفتار
عدالتی ہدایات
عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ صوابدیدی اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے، جسے محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئندہ سال مزید مشکل، موسمیاتی تبدیلی کی شدت 22 فیصد بڑھ سکتی ہے: این ڈی ایم اے
ملازمین کے حقوق کی تسلیم
سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا۔ ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے، نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔
یہ بھی پڑھیں: امید۔۔۔ اندھیروں میں جینے کا ہنر
حکام کی جانب سے موقف
واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد پچھلے واجبات روک لیے گئے تھے اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کیا تھا۔
پولیس اہلکاروں کی استدعا تھی وہ بحال ہو چکے ہیں، انہیں تمام واجبات بھی ملنے چاہئیں جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید ہے۔
فیصلے کا تحریر کنندہ
سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔








