رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے: برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے برطرف ملازم کی بحالی اور واجبات کی ادائیگی سے متعلق بڑا فیصلہ جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: دور آتی جاتی گاڑی دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا جیسے پٹری پر سے اتر کر گہرے پانیوں میں داخل ہو گئی ہے اور اب لہروں سے لڑتی تیرتی سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔

غلط برطرفی کا شکار ملازمین کے حقوق

نجی ٹی وی چینل ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ غلط برطرفی کا شکار ملازم پچھلے تمام واجبات پانے کے حقدار قرار ہے۔ سپریم کورٹ نے بقایا جات ادائیگی کے فیصلے کے خلاف سرکاری اپیلیں مسترد کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: 190 ملین پاؤنڈ ریفرنس؛ عمران خان اور بشریٰ بی بی نے سوالنامے کے جواب جمع نہیں کرائے، سماعت 13 نومبر تک ملتوی

پولیس اہلکاروں کی بحالی

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے پولیس اہلکاروں کو برطرفی واجبات کا حقدار قرار دے دیا۔ عدالت نے برطرف پولیس اہلکاروں کو ایک ماہ کے اندر تمام بقایا جات ادا کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: یورپ میں ٹیکسٹائل کارخانوں پر قبضے کی جنگ، اٹلی میں چینی جوڑے کو گولیاں مار کر قتل کردیا گیا

پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور

سپریم کورٹ نے پولیس اہلکاروں کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری کا منارۃ السعدیات میں ابوظہبی آرٹ 2025 کا دورہ

فیصلے میں شعر اور حوالہ

فیصلے کے آغاز میں درج نظم کے الفاظ یہ تھے کہ ’’انصاف کا سورج طلوع ہوگا تو اندھیرے چھٹ جائیں گے۔‘‘ سپریم کورٹ کے فیصلے میں ولیم شیکسپیئر کا حوالہ دیا گیا کہ ’’رزق چھیننا زندگی چھیننے کے مترادف ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھیں: عارف علوی کی تین مقدمات میں 20 دن کیلئے حفاظتی ضمانت منظور

آئینی تحفظات

سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ آئین کا آرٹیکل 9 زندگی کی ضمانت دیتا ہے، جس میں روزگار کا تحفظ بھی شامل ہے، غلط برطرفی کا شکار ملازم مکمل واجبات حاصل کرنے کا حقدار ہے۔ اب حاکمیت کے کلچر کے بجائے جواز کے کلچر کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ہمیں آئینی ترمیم کے مسودے سے اتفاق نہیں، معاملے کو پیر تک روکا جائے، پی ٹی آئی رہنما کا بیان

عدالتی ہدایات

عدالتی فیصلے کے مطابق آئین کے آرٹیکل 10-A کے تحت ہر سرکاری افسر اپنے ہر فیصلے کا ٹھوس، عقلی اور معقول جواز فراہم کرنے کا پابند ہے۔ صوابدیدی اختیارات کا استعمال ایک مقدس امانت ہے، جسے محض ذاتی پسند ناپسند کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ غیر منصفانہ، متعصبانہ یا من مانے فیصلے کرنے والے حکام کے خلاف عدالتی مداخلت ناگزیر ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے سیلابی ریلے کے باعث زرعی املاک کو نقصان اور سڑکوں کی تباہی

ملازمین کے حقوق کی تسلیم

سپریم کورٹ نے فیصلے میں لکھا کہ ملازم کا یہ کہنا ہی کافی ہے کہ وہ بیروزگار تھا، اسے اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے در در نہیں بھٹکنا پڑے گا۔ ملازم کو جھوٹا ثابت کرنے کے لیے ثبوت لانا محکمے کی ذمہ داری ہے، نظام کی خرابی یا مقدمے بازی میں طویل تاخیر کی سزا غریب ملازم کو نہیں دی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستانی فلم اسٹار میرا سیڑھیوں سے گر کر زخمی

حکام کی جانب سے موقف

واضح رہے کہ خیبر پختونخوا پولیس کے برطرف ملازمین کو عہدوں پر بحال کرنے کے بعد پچھلے واجبات روک لیے گئے تھے اور خیبر پختونخوا سروس ٹربیونل نے پولیس اہلکاروں کو پچھلے واجبات دینے سے انکار کیا تھا۔

پولیس اہلکاروں کی استدعا تھی وہ بحال ہو چکے ہیں، انہیں تمام واجبات بھی ملنے چاہئیں جبکہ محکمہ پولیس کا موقف تھا کہ پچھلے واجبات کی ادائیگی اتھارٹی کی صوابدید ہے۔

فیصلے کا تحریر کنندہ

سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ کا فیصلہ جسٹس شاہد وحید نے تحریر کیا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...