ماحولیاتی بگاڑ سنگین خطرہ، آزاد کشمیر میں فطرت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ
نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس کی تشویش
مظفرآباد (ویب ڈیسک) سماجی تنظیم نیٹ ورک فار ہیومن رائٹس اینڈ جسٹس نے آزاد جموں و کشمیر میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی بگاڑ پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فطرت کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کردیا۔ تنظیم کے مطابق بے ہنگم تعمیرات، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ریاست کے قدرتی وسائل، خصوصاً گلیشیئرز، دریاؤں اور جنگلات کو شدید اور ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آرمی چیف کا نعرہ ’پاکستان ہمیشہ زندہ باد‘ ہر زباں کا ورد بن گیا، نیا نغمہ ریلیز
فطرت کا تحفظ: ضرورت اور تقاضے
جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فطرت کا تحفظ اب محض ایک نعرہ نہیں بلکہ اجتماعی بقا کا بنیادی تقاضا بن چکا ہے۔ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو آزاد کشمیر کا قدرتی نظامِ حیات شدید خطرات سے دوچار ہو سکتا ہے، جس کے اثرات نہ صرف ماحول بلکہ انسانی زندگی پر بھی مرتب ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہائی کمیشن لندن میں لاہور قلندرز کی ٹرافی تقریب، عوام اور کرکٹ اسٹارز کا جوش و خروش
محیطی چیلنجز اور ان کے اثرات
بیان میں مزید کہا گیا کہ دریاؤں میں بڑھتی ہوئی آلودگی، جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور غیر منصوبہ بند تعمیرات کے باعث ماحولیاتی توازن بگڑ چکا ہے، جس کے نتیجے میں غیر متوقع موسمی تبدیلیاں، لینڈ سلائیڈنگ اور قدرتی آفات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سیاحتی مقامات پر پلاسٹک کے استعمال پر فوری پابندی عائد کی جائے، پہاڑی علاقوں اور وادیوں کے قدرتی تشخص کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت ماحولیاتی قوانین نافذ کیے جائیں اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے ریاست گیر آگاہی مہم کا آغاز کیا جائے تاکہ آنے والی نسلوں کے لیے آزاد کشمیر کے قدرتی وسائل محفوظ بنائے جا سکیں۔
ماحولیاتی تحفظ مہم
تنظیم نے اعلان کیا کہ بہت جلد ایک جامع ماحولیاتی تحفظ مہم کا آغاز کرے گی، جس کا مقصد فطرت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوام کو یہ باور کرانا ہوگا کہ قدرتی ماحول کی حفاظت دراصل انسانی مستقبل کی حفاظت ہے۔








