سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا
سپریم کورٹ نے عبدالرزاق کو بری کر دیا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے قتل کے مجرم عبدالرزاق کو عدم شواہد کی بنیاد پر بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی شہزادہ فیصل بن ترکی بن عبداللہ آل سعود بن فیصل آل سعود انتقال کرگئے
عدالت کے فیصلے کی تفصیلات
روزنامہ جنگ کے مطابق عدالت نے وکلاء کے دلائل مکمل ہونے پر مجرم کو بری کیا۔ ٹرائل کورٹ نے مجرم عبدالرزاق کو سزائے موت دی تھی، جسے ہائی کورٹ نے عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بجلی کی قیمت میں اضافے کا امکان
وکیل صفائی کے دلائل
عبدالرزاق کی بریت کی درخواست پر سماعت کے دوران وکیل صفائی صغیر احمد قادری نے کہا کہ گواہوں کے بیانات اور میڈیکل ایویڈینس سپورٹ نہیں کرتے، عدالت سے استدعا کروں گا کہ ٹرائل کا طریقہ کار درست کروایا جائے۔
وکیل صفائی کا کہنا تھا کہ ٹرائل کورٹ میں ٹرائل کو ایک ہفتے میں ختم ہونا چاہیے، ہائی کورٹس کے رولز موجود ہیں لیکن عمل نہیں کیا جا رہا۔ گواہان کے بیانات کے بعد جرح میں مہینے گزر جاتے ہیں، موجودہ کیس میں ایسا ہی ہوا، بیان ریکارڈ ہونے کے مہینے بعد جرح ہوئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی ریمارکس
اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ اب وکیل بھی وہ وکیل نہیں رہے، پہلے ججز ڈرا کرتے تھے۔ ڈر ہوا کرتا تھا کہ بار صدر پچاس وکلاء کو لے کر آجائیں گے، اب تو وکیل صاحب موبائل ریکارڈنگ دے دیتے ہیں، گواہ کو بیان ریکارڈ کروانے سے پہلے۔








