پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 3 فیصلوں کیخلاف نظرثانی درخواستیں دائر کردیں۔
پنجاب حکومت کی نظرثانی درخواستیں
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پنجاب حکومت نے سپریم کورٹ کے 3 فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کر دیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاک بحریہ میں عسکری اعزازات تفویض کرنے کی تقریب، چیف آف نیول سٹاف کی بطور مہمان خصوصی شرکت
درخواست کا پس منظر
نظرثانی درخواستیں ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل پنجاب احمد رضا گیلانی کے ذریعے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، خاتون کے ساتھ ہونے والی زیادتی کو زنا بالرضا قرار دینے، 16 افراد کے قتل کے ملزم کی سزا کو الگ الگ کاٹنے کے بجائے ایک ساتھ سزا شمار کرنے، اور دیگر ملزمان کے ساتھ مفرور ملزم کو بھی بری کرنے کے عدالتی فیصلوں کے خلاف نظرثانی درخواستیں دائر کی گئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: زمبابوے کے کھلاڑی سکندر رضا ٹاس سے صرف 10 منٹ پہلے انگلینڈ سے سیدھا قذافی اسٹیڈیم پہنچ کر میچ جیتا گئے۔
نظرثانی درخواست میں مؤقف
نظرثانی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ زنا بالجبر کو زنا بالرضا میں تبدیل کرنے کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ عدالتیں عموماً جنسی زیادتی کا شکار خاتون کے خلاف آبزرویشنز دینے سے گریز کرتی ہیں تاکہ ان کے احترام میں کمی نہ آئے۔ ملزم کے مکروہ اقدام سے پیدا ہونے والے بچے کے قانونی اور سماجی کردار پر عدالت کی خاموشی نے متاثرہ خاتون اور اُس کے اہلخانہ پر مستقل داغ عائد کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایس اکیڈمی کے بلال نے حیران کن فتح حاصل کی، ابو بکر نے سیمی زیب کو شکست دی
قتل کے کیس کا تناظر
درخواست میں کہا گیا ہے کہ ایک ہی سزا شمار کرنے کے فیصلے کو مخصوص حالات اور حقائق کے تناظر میں نظرثانی کی جائے۔ دو خاندانوں کے 21 افراد قتل ہو چکے ہیں، اور یہ معاملہ انسداد دہشت گردی کے مقدمے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ اس مقدمے میں 16 افراد کی جان گئی، جبکہ دوسری جانب 5 افراد کا قتل ہوا۔
عدالت کی قباحتیں
نظرثانی درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ 16 افراد کے قتل کی سزا ایک فرد کو قتل کرنے کے برابر دی گئی اور یہ کہا گیا کہ سزا اکٹھی چلے گی۔ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی ہے کہ آیا سزا اکٹھی ہوگی یا الگ، اس کا فیصلہ کیس کے حقائق کی روشنی میں ہوگا۔ اس لیے سپریم کورٹ کے پیراگراف نمبر 16 اور 17 کو حل کیا جائے اور 16 افراد کو قتل کرنے کی سزا ایک ساتھ کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔








