پاکستان کسی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، ایران پر طاقت و پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں: دفتر خارجہ
پاکستان کا ابراہیمی معاہدے سے لاتعلق ہونا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان کا ابراہیمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران پر طاقت اور پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لندن ہائیکورٹ میں مریم نواز کی اہم قانونی فتح، نجی چینل نے معافی مانگ لی
انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شمولیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس اور سٹبلائیزشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عجیب کردار تھے، ”اسپغول تے کجھ نہ پھول“ ظاہر کرتے کہ بڑے سادہ اور ایماندار ہیں، ہارورڈ یونیورسٹی سے لی گئی ڈگری بھی ان کا کچھ نہ بگاڑ سکی تھی۔
ایران کے ساتھ پرامن تعلقات
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستانی مصنوعات کی برآمدات میں سات ماہ کے دوران 1.34 ارب ڈالر کمی ریکارڈ، ٹیکسٹائل اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں استحکام برقرار
بھارت اور یورپ کے تجارتی معاملات
بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زیادہ ہے، بھارت کے یورپ کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ مریم نواز کا 11 بھارتی حمایت یافتہ خوارج ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
صدر زرداری کی ملاقاتیں
انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اجلاس میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات وسیع کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: چائلڈ میرج کے خلاف بل صرف ایک قانون سازی نہیں بلکہ بلوچستان کی بیٹیوں کے محفوظ اور صحت مند مستقبل کی بنیاد ہے، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی
وزیر خارجہ کی بین الاقوامی بات چیت
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اسی دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سنگ Mil ہے۔
یہ بھی پڑھیں: خوشخبری ۔۔ ضلع خیرپور سے گیس دریافت
ورلڈ اکنامک فورم کی شرکت
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ تھے، ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: پہلگام حملے کا قصور وار تو آپ کے اندر ہی ہے” ہندو پنڈت نے کھری کھری سنا دیں : ویڈیو دیکھیں
امریکا کی ٹریول ایڈوائزری
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پنجاب حکومت نے ملازمین کی ٹیکس کٹوتی سے متعلق نئی ترمیم متعارف کرادی
پاکستان اور امریکا کے تعلقات
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے لیے جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اچھے ہیں، امریکا نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔
قزاقستان کے صدر کا دورہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی.







