پاکستان کسی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، ایران پر طاقت و پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں: دفتر خارجہ
پاکستان کا ابراہیمی معاہدے سے لاتعلق ہونا
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ابراہیمی معاہدے کا حصہ نہیں بنے گا، پاکستان کا ابراہیمی معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے، ایران پر طاقت اور پابندیوں کے استعمال کے خلاف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللّٰہ بابر نے ایف آئی اے سے کونسا ریکارڈ مانگ لیا۔۔؟ تفصیلات جانیے
انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شمولیت
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ترجمان طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان انٹرنیشنل سٹبلائزیشن فورس میں شامل نہیں ہوگا، بورڈ آف پیس اور سٹبلائیزشن فورس کا آپس میں کوئی تعلق نہیں ہے، پاکستان بورڈ آف پیس کا حصہ مشترکہ حکومتی رولز کے مطابق بنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہیروئن کاسٹ کرنے ‘ہیرا منڈی’ گئے، جہاں ریما سے ملاقات ہوئی، فلم ساز ناصر ادیب کا انکشاف
ایران کے ساتھ پرامن تعلقات
دفتر خارجہ کے ترجمان نے ایران پر جنگ کے بادل منڈلانے کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ہمیشہ پر امن طریقے سے مسائل کے حل کی بات کرتا ہے، ہم طاقت کے استعمال اور اقتصادی پابندیوں کے حق میں نہیں، ہم امید کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا۔
یہ بھی پڑھیں: ایک شخص نے ہسپتال میں زیر علاج خاتون کے کانوں کی بالیاں اور نقدی چوری کرلی ،ویڈیو وائرل
بھارت اور یورپ کے تجارتی معاملات
بھارت اور یورپ کے درمیان تجارتی معاہدے کے حوالے سے سوال کے جواب میں طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ پاکستان اور یورپ کے درمیان اچھے تعلقات ہیں، پاکستان اور یورپ کے درمیان تجارتی حجم 12 ارب یورو سے زیادہ ہے، بھارت کے یورپ کے ساتھ معاہدات کے حوالے سے بات چیت کی گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: چودھری خالد حسین کی طرف سے صحافیوں کے اعزاز میں ڈنر، مختلف موضوعات پر اظہار خیال اور زیارات مقدسہ پر بات چیت
صدر زرداری کی ملاقاتیں
انہوں نے بتایا کہ صدر زرداری نے یو اے ای کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی، اجلاس میں ابوظہبی کے سپریم کونسل برائے مالی و اقتصادی امور نے پاکستان میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے اور جاری منصوبوں کا جائزہ لینے پر زور دیا، دونوں ممالک نے پرچم بردار منصوبوں کے ذریعے سرمایہ کاری بڑھانے اور تجارتی تعلقات وسیع کرنے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جنگی طیاروں کے پاس یقیناًاضافی فیول ٹینک ہوں گے، اور یہ ایران کیلئے انتہائی پریشانی کی بات ہے کہ۔۔۔ چینی تجزیہ کار نے ایران کی سب سے بڑی کمزوری کی نشاندہی کر دی
وزیر خارجہ کی بین الاقوامی بات چیت
بریفنگ میں یہ بھی بتایا گیا کہ مشترکہ کوششوں سے مسائل جلد حل کیے جائیں گے، اس ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایران اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے ٹیلی فونک بات چیت کی اور علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا، اسی دوران گھانا کے ساتھ وفود کی سطح پر دوطرفہ تعلقات پر بھی بات چیت ہوئی، صدر زرداری کا یہ دورہ سرمایہ کاری، تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ اور عوامی رابطوں کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے اہم سنگ Mil ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹیبلشمنٹ یا دیگر جماعتوں سے پی ٹی آئی کی بات چیت میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کا گالم گلوچ بریگیڈ ہے: رانا ثنااللہ
ورلڈ اکنامک فورم کی شرکت
دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق اس ہفتے وزیراعظم نے ورلڈ اکنامک فورم ڈیووس میں شرکت کی، ایونٹ کے دوران وزیراعظم نے عالمی سربراہان سے ملاقاتیں کیں، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دورے میں وزیراعظم کے ہمراہ تھے، ڈیووس سے واپسی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا، جس میں ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی اتصالات کی پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: آسٹریلوی کرکٹ ٹیم نے عالمی ریکارڈ بنا دیا
امریکا کی ٹریول ایڈوائزری
وزارت خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ اسی ہفتے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے دو مرتبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ٹیلیفونک گفتگو کی، جس میں ایران اور خطے کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ بھی پڑھیں: عمران خان کی ہدایت پر کے پی کابینہ کو حتمی شکل دیدی : وزیراعلیٰ کے پی
پاکستان اور امریکا کے تعلقات
ترجمان دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے اپنے شہریوں کو پاکستان کے سفر کے لیے جاری ہونے والی ٹریول ایڈوائزری کے حوالے سے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات اچھے ہیں، امریکا نے بعض پہلے سے جاری ٹریول ایڈوائزریز واپس بھی لے لی ہیں اور دونوں ملکوں کے تعلقات معمول کے مطابق ہیں۔
قزاقستان کے صدر کا دورہ
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق قزاقستان کے صدر جلد پاکستان کا دورہ کریں گے، جس کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی، دونوں ملکوں کے درمیان ریلوے منصوبے پر فی الحال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، تاہم مجوزہ مفاہمتی یاداشتوں کی تفصیلات بعد میں جاری کی جائیں گی.








