کام کا دباؤ لوگوں کو ہم جنس پرست بنا دیتا ہے: ملائیشیا کے وزیر کی انوکھی منطق نے تنازعہ کھڑا کردیا

ڈاکٹر ذوالکفلی حسن کا متنازع بیان

کوالالمپور (آئی این پی) ملائیشیا کے محکمہ برائے مذہبی امور کے وزیر ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے دعویٰ کیا ہے کہ کام کا دباؤ، سماجی اثرات اور مذہبی عمل کی کمی ایسے عوامل ہیں جو لوگوں کو ہم جنس پرستی کی طرف لے جاتے ہیں۔ انکے اس بیان نے ملک میں شدید تنازع کھڑا کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: نجکاری کیلئے پی آئی اے،سٹیٹ لائف انشورنس سمیت 10 اداروں کی فہرست فائنل

پارلیمانی جواب کا پس منظر

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر ذوالکفلی حسن نے یہ بیان ایک تحریری پارلیمانی جواب میں دیا، جو انہوں نے اپوزیشن کی اسلامی جماعت پاس سے تعلق رکھنے والی رکنِ پارلیمنٹ سیتی زائلہ محمد یوسف کے سوال کے جواب میں پیش کیا۔ ملائیشین وزیر نے اپنے جواب میں کہا کہ سماجی اثرات، کام کا دباؤ اور دیگر ذاتی عوامل ان وجوہات میں شامل ہیں جنہیں وہ ہم جنس پرستی کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایشیز سیریز میں مصروف عثمان خواجہ کی نوعمر بیٹیاں نسل پرستانہ حملے کی زد میں آگئیں

ہم جنس پرستی کے بڑھتے رجحانات

یہ بیان پارلیمنٹ میں ہم جنس پرستی کے بڑھتے رجحانات سے متعلق ایک سوال کے تناظر میں سامنے آیا، جس میں عمر، نسل اور ممکنہ وجوہات پر معلومات طلب کی گئی تھیں۔

حراست و عدالتی کارروائیاں

ڈاکٹر ذوالکفلی حسن کا کہنا تھا کہ 2022 سے 2025 کے دوران غیر اخلاقی سرگرمیوں سے متعلق مجموعی طور پر 135 کیسز گرفتاریاں یا عدالتی کارروائیوں کی صورت میں ریکارڈ کیے گئے۔ وزیر ذوالکفلی حسن کے بیان کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں متعدد ملائیشین شہریوں نے اس دعوے کا مذاق اڑایا۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...