بڑا مسئلہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ۔۔ آگ ہمیں بار بار ’’سبق‘‘ دے رہی ہے، مگر ہم سیکھنے کو تیار نہیں

تحریر

سلیم خان
ہیوسٹن (ٹیکساس) امریکہ

یہ بھی پڑھیں: اندرون لاہور وِلڈ سٹی اتھارٹی نے بسنت سے قبل 300 سے زائد عمارتوں کو غیر محفوظ قرار دیدیا

پاکستان میں آتشزدگی کے حادثات

پاکستان میں آتشزدگی کے حادثات ایسے نظام کی عکاسی ہیں جو برسوں سے غفلت، ناقص حکمرانی اور کمزور عملدرآمد کے سہارے چل رہا ہے۔ شاپنگ مالز، ہوٹلز، فیکٹریاں، بازار اور رہائشی عمارتیں، جہاں بھی آگ بھڑکتی ہے، وہاں صرف لکڑی، کپڑا یا کنکریٹ نہیں جلتا بلکہ انتظامی دعوے اور انسانی جان کی قدر بھی راکھ میں بدل جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین نے ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، ڈرائیور کے بغیر چلنے والے مائننگ ٹرک تیار، کانوں میں کام شروع کردیا

قوانین اور عملدرآمد

فائر سیفٹی سے متعلق قوانین اور بلڈنگ کوڈز موجود ہیں۔ کاغذوں میں ایمرجنسی اخراج کے راستے، فائر الارم، اسپرنکلر سسٹم اور فائر فائٹنگ آلات سب لازم ہیں، مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ یہ سب زیادہ تر فائلوں، نقشوں اور سرٹیفکیٹس تک محدود ہیں۔ اصل سوال یہ نہیں کہ قوانین کیوں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ جو قوانین موجود ہیں، ان پر عمل کیوں نہیں ہوتا؟

یہ بھی پڑھیں: آپ نے گھبرانا نہیں، جلد آئندہ کا لائحہ عمل دوں گا: عمران خان کا اعلان

وجوہات اور احتساب کا فقدان

آتشزدگی کے اکثر واقعات میں ایک جیسی وجوہات سامنے آتی ہیں۔ ناقص الیکٹریکل وائرنگ، غیر معیاری آلات، آتش گیر مواد کا غیر محفوظ ذخیرہ، اور سب سے بڑھ کر حفاظتی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی۔ اس سب کے باوجود ایسی عمارتیں برسوں تک کام کرتی رہتی ہیں، کیونکہ معائنے کا نظام کمزور ہے اور فائر سیفٹی سرٹیفکیٹس اکثر خانہ پُری، سفارش یا رشوت کے ذریعے حاصل کر لیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈی آئی خان سے نجی کمپنی کے 11 ملازمین اغواء، 5 کو بازیاب کرا لیا گیا

حکومت کی ناکامی

حکومتی پالیسیوں کا ایک بڑا مسئلہ نگرانی اور احتساب کا فقدان ہے۔ بلدیاتی ادارے، ڈویلپمنٹ اتھارٹیز، فائر بریگیڈ اور ضلعی انتظامیہ سب اپنی اپنی ذمہ داریوں کا ذکر تو کرتے ہیں، مگر کسی ایک ادارے پر یہ واضح ذمہ داری عائد نہیں کہ وہ یہ یقینی بنائے کہ انسانی جان واقعی محفوظ ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حادثے سے پہلے کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا، اور حادثے کے بعد سب ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی، ایل پی جی کی دکان میں آتشزدگی کے باعث 2 افراد جاں بحق

معاشی و سیاسی مفادات

افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر معاملات میں معاشی اور سیاسی مفادات کو انسانی جان پر ترجیح دی جاتی ہے۔ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور حفاظتی خامیوں کو اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ کہیں کاروبار متاثر نہ ہو یا کسی بااثر طبقے کو ناراض نہ کرنا پڑے۔ مگر جب آگ لگتی ہے تو اس کا ایندھن ہمیشہ عام شہری بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک تحفظ آئین کا 20 اور 21 دسمبر کو اسلام آباد میں قومی کانفرنس بلانے کا اعلان

حکومتی ردعمل

حادثے کے بعد حکومتی ردعمل بھی ایک طے شدہ انداز میں سامنے آتا ہے۔ اعلیٰ سطح کی انکوائری کے اعلانات، چند افسران کی معطلی، اور متاثرین کے لیے امدادی پیکجز۔ مگر جیسے ہی میڈیا کی توجہ کم ہوتی ہے، اصلاحات کا عمل بھی ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ نہ مستقل پالیسی اصلاحات ہوتیں، نہ سخت نگرانی کا نظام قائم کیا جاتا ہے، اور نہ ہی ذمہ داروں کو ایسی سزا ملتی ہے جو آئندہ کے لیے مثال بن سکے۔

یہ بھی پڑھیں: 26ویں آئینی ترمیم کے بعد نوجوان وکلاء کے چہروں پر مایوسی دیکھی، مخدوم علی خان نے استعفیٰ میں کیا لکھا؟ اہم تفصیلات سامنے آ گئیں

ریسکیو اداروں کی قربانیاں

ریسکیو اداروں کی قربانیاں اور محنت اپنی جگہ قابلِ تحسین ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ کیا ریاست کا کردار صرف آگ لگنے کے بعد حرکت میں آنا ہے؟ اگر پیشگی معائنہ، غیر اعلانیہ چیکس، اور زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی جائے تو شاید کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا کی پاکستان کو ریل انجن فراہمی اور معدنی وسائل میں تعاون کی پیشکش

پالیسی کی ناکامی

اب وقت آ گیا ہے کہ آتشزدگی کو حادثہ نہیں بلکہ پالیسی کی ناکامی سمجھا جائے۔ غیر محفوظ عمارتوں کو بلا امتیاز بند کیا جائے۔ فائر سیفٹی قوانین پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد ہو۔ سال میں ایک بار نہیں بلکہ مسلسل اور اچانک معائنے کیے جائیں۔ اور سب سے بڑھ کر، انسانی جان کے ضیاع پر ذمہ دار افراد کو محض معطل نہیں بلکہ قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

آگ کا سبق

یہ آگ ہمیں بار بار ایک ہی سبق دے رہی ہے، مگر ہم سیکھنے کو تیار نہیں۔ جب تک غفلت ہماری پالیسی اور مفاد ہماری ترجیح رہے گا، تب تک یہ شعلے ہمارے شہروں اور ضمیروں کو جلاتے رہیں گے۔

کیونکہ آگ صرف عمارتوں کو نہیں جلاتی،
یہ ریاستی سنجیدگی کا امتحان بھی لیتی ہے
اور اس امتحان میں ہم بار بار ناکام ہو رہے ہیں۔

نوٹ: ادارے کا لکھاری کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں ۔

Categories: بلاگ

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...