کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 10 ملزمان نے سرنڈر کر دیا اور کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست عدالت میں جمع کرادی
کوہستان مالیاتی سکینڈل میں پیش رفت
پشاور (ڈیلی پاکستان آن لائن) خیبرپختونخوا میں سامنے آنے والے کوہستان مالیاتی سکینڈل میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔ 10 ملزمان نے خود کو سرنڈر کر دیا اور کروڑوں روپے مالیت کے اثاثوں سے دستبرداری کی درخواست احتساب عدالت میں جمع کرادی۔
یہ بھی پڑھیں: لیئم پین کا سنیپ چیٹ پر آخری پیغام اور پھر ہوٹل کی بالکونی سے گر کر موت
سماعت کی تفصیلات
احتساب عدالت کے انتظامی جج محمد ظفرخان نے کوہستان مالیاتی اسکینڈل کیس کی سماعت کی۔ اس موقع پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی، پراسیکیوٹر مانک شاہ اور نیب کے انویسٹی گیشن افسر محمد عنایت اللہ بھی پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران ملزمان نے عدالت میں درخواست دائر کی اور مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے کوہستان کرپشن اسکینڈل میں ان کی مختلف ملکیتی اثاثے قبضے میں لیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کابینہ کمیٹی برائے امن و امان کا اجلاس، عیدالاضحیٰ کے حوالے سے اہم فیصلے، میانوالی میں رینجرز کی تعیناتی میں توسیع
دستاویزات کا مؤقف
ملزمان نے کہا کہ وہ ان اثاثوں سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں کیونکہ مرکزی ملزمان نے یہ جائیداد اور اثاثے ان کے نام پر لیے ہیں اور وہ بےنامی دار ہیں۔ انہوں نے درخواست دی ہے کہ ان کا ان جائیدادوں اور اثاثوں سے کوئی تعلق نہیں اور اگر نیب یہ تحویل میں لینا چاہتا ہے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ نے غزہ کے لیے بورڈ آف پیس میں وزیراعظم شہباز شریف کو شمولیت کی دعوت دے دی
ڈپٹی پراسیکیوٹر کا بیان
اس موقع پر ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل محمد علی نے عدالت کو بتایا کہ اگر یہ ملزمان ان اثاثوں سے دستبردار ہوتے ہیں تو نیب ان کے خلاف مزید کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ ان اثاثوں میں پلاٹس اور قیمتی گاڑیاں شامل ہیں۔ مرکزی ملزمان نے ان کے نام پر یہ جائیدادیں اور اثاثے خریدی ہیں اور یہ تمام بےنامی دار ہیں۔ سرنڈر کرنے والے ملزمان کوہستان اسکینڈل میں بے نامی دار ہیں اور وہ 23 کروڑ 77 لاکھ 78 ہزار 600 روپے کے اثاثے واپس کرنا چاہتے ہیں۔
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے تمام ملزمان کے بیانات قلم بند کیے اور درخواست پر تحریری فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔








