ایران کے بوشہر میں بجلی گھر سے اپنے عملے کو نکالنے کے لیے تیار ہیں، روس کا اعلان
روس کا ایران کے نیوکلیئر پلانٹ سے عملہ نکالنے کا عندیہ
ماسکو (ڈیلی پاکستان آن لائن) روس نے کہا ہے کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو وہ ایران کے شہر بوشہر میں واقع جوہری بجلی گھر سے اپنے عملے کو نکالنے کے لیے تیار ہے۔ روس کی سرکاری ایٹمی کارپوریشن روس ایٹم کے سربراہ الیکسی لیخاچیوف نے یہ بیان دیا۔
یہ بھی پڑھیں: پی آئی اے کا پیرس سے آنے والے مسافروں کے لیے کرایوں میں رعایت کا اعلان
ایران کا واحد فعال جوہری بجلی گھر
روئٹرز کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اس سے پہلے کہا تھا کہ ایران کے واحد فعال جوہری بجلی گھر بوشہر میں سینکڑوں روسی ماہرین اور اہلکار کام کر رہے ہیں۔ یہ پلانٹ روس ہی نے ایران کے لیے تعمیر کیا تھا جبکہ بوشہر کے مقام پر مزید جوہری تنصیبات بھی روس کے تعاون سے زیرِ تعمیر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت کی آبی جارحیت، دریائے چناب کا پانی کی بندش کے بعد ہیڈ مرالہ بیراج میں بہاؤ 3 ہزار 100 کیوسک رہ گیا۔
حملوں کی تنبیہ
گزشتہ برس جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے دوران بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ نہیں بنایا گیا تھا۔ تاہم اس وقت لیخاچیوف نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس مقام پر حملہ ہوا تو اس کے نتائج 1986 کے چرنوبل جوہری حادثے جیسی تباہی کا باعث بن سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کامران لاشاری کا استعفیٰ منظور، آفس چھوڑنے کی ہدایت
امریکی حکومت کا دباؤ
بدھ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئے اور جوہری ہتھیاروں سے دستبرداری کا معاہدہ کرے، بصورتِ دیگر اگلا امریکی حملہ کہیں زیادہ شدید ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی جنگی طیاروں کے پاس یقیناًاضافی فیول ٹینک ہوں گے، اور یہ ایران کیلئے انتہائی پریشانی کی بات ہے کہ۔۔۔ چینی تجزیہ کار نے ایران کی سب سے بڑی کمزوری کی نشاندہی کر دی
روس کی امیدیں اور تیاری
الیکسی لیخاچیوف کا کہنا تھا کہ روس کو پوری امید ہے کہ تنازع میں شامل فریقین بوشہر کے مقام کی حرمت اور ناقابلِ تردید حیثیت سے متعلق اپنے وعدوں کی پاسداری کریں گے۔ ان کے مطابق روس صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور وزارتِ خارجہ اور وزارتِ دفاع کے ساتھ قریبی رابطے میں رہتے ہوئے، ضرورت پڑنے پر انخلا کے اقدامات کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ایران کا مؤقف
ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے، جبکہ روس کا مؤقف ہے کہ وہ ایران کے پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کے حق کی حمایت کرتا ہے۔








