جیل انتظامیہ نے بشریٰ بی بی کی اجازت سے عمران خان کو پمز ہسپتال میں ایمرجنسی علاج کے لیے منتقل کیا، فیاض الحسن چوہان
فیاض الحسن چوہان کا بیان
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) سابق وزیر فیاض الحسن چوہان کا کہنا ہے کہ میں سابق وزیر جیل خانہ جات کی حیثیت سے پوری قوم کو آگاہ کر رہا ہوں کہ جیل میں کسی بھی قیدی کی ایمرجنسی طبیعت خراب ہونے پر جیل کے ڈاکٹر کی تحریری سفارش پر سپریٹنڈنٹ جیل کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ قیدی کو جیل سے باہر کسی اچھے ہسپتال میں علاج اور آپریشن کے لیے شفٹ کرسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: لاہور میں پانی کو دوبارہ قابل استعمال بنانے کا منصوبہ منظور
قانونی وضاحت
اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی قانون نہیں ہے، محض روایت ہے کہ جیل سے کسی بڑے ہسپتال کی شفٹنگ کے دوران جیل انتظامیہ قیدی کی فیملی کو آگاہ کر دیتی ہے۔ جیل انتظامیہ فیملی کو آگاہ کرنے کی قانونی طور پر پابند نہیں ہوتی۔ جیل رولز، ریاستی حکومتی قانونی اور آئینی طور پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے ہر ملک میں فیملی سے مراد ماں باپ، بیوی اور بچے ہوتے ہیں۔ کوئی شادی شدہ اور غیر شادی شدہ بہن بھائی آئینی اور قانونی طور پر فیملی کے زمرے میں نہیں آتے۔ بانی تحریک انصاف کی بیوی اور اُن کے بچے جیل رولز کے مطابق اُن کی فیملی ہے۔
بشری بی بی کا ایمرجنسی علاج
فیاض الحسن چوہان نے مزید کہا کہ جیل انتظامیہ نے بشری بی بی کی اجازت سے پمز ہسپتال میں ایمرجنسی علاج کے لیے منتقل کیا۔ اب سوشل میڈیا پر محض ویورز شپ کے ذریعے ڈالرز کمانے کے حریص اور گھٹیا بیوپاریوں سے گذارش ہے کہ "فیملی کی اجازت" والا "دو دونی بتیس اور چار دونی چھتیس" کا بے تُکا، بے ڈھنگا اور فضول پہاڑا پڑھنا چھوڑ کر کسی نئے سٹنٹ اور نئی فیک نیوز کی تھاپ اور "نک دا کوکا" کی لے پر ناچنے کی تیاری کریں۔
میں سابق وزیر جیلخانہ جات کی حیثیت سے پوری قوم کو آگاہ کر رہا ہوں کہ۔۔۔:
جیل میں کسی بھی قیدی کی ایمرجنسی طبیعت خراب ہونے پر جیل کے ڈاکٹر کی تحریری سفارش پر سپریٹنڈنٹ جیل کا اختیار ہوتا ہے کہ وہ قیدی کو جیل سے باہر کسی اچھے ہسپتال میں علاج اور آپریشن کے لیے شفٹ کرسکتا ہے۔۔۔۔!!!!!…— Fayaz ul Hassan Chohan (@Fayazchohanpk) January 29, 2026








