سانحہ گل پلازہ: کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں: شرجیل میمن
شرجیل میمن کا بیان
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن) سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے کسی سیاسی جماعت کے دباؤ میں نہیں آئیں گے اور چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھ رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی شہری نے 1.8 ارب ڈالر کی لاٹری جیت لی
سانحہ گل پلازہ کی تفصیلات
سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ سانحہ گل پلازہ میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس سانحہ کے بعد سندھ کابینہ نے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ انہوں نے بتایا کہ آگ لگنے کے وقت عمارت میں تقریباً 2 ہزار سے 2500 افراد موجود تھے، اور گل پلازہ کے دو مرتبہ سیفٹی آڈٹ بھی ہو چکے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: شہداء چوک نے صدر حسنی مبارک کیخلاف شاندار انقلاب کے حوالے سے مقبولیت حاصل کی،یہاں لاکھوں لوگوں نے دھرنا دیا اور شہید ہوئے.
محکمانہ کارروائیاں
’’دنیا نیوز‘‘ کے مطابق شرجیل میمن نے کہا کہ ڈائریکٹر سول ڈیفنس اور ایڈیشنل کنٹرول سول ڈیفنس ضلع جنوبی کو فوری طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔ ان کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت محکمہ جاتی کارروائی شروع کی جا رہی ہے۔ فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں تاخیر کے باعث کارروائیاں متاثر ہوئیں۔ چیف انجینئر بلخ اور انچارج ہائیڈرنٹس کو بھی فوری طور پر معطل کیا گیا ہے، اور ان کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے گی۔
پانی کی فراہمی میں تاخیر
شرجیل میمن نے مزید کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ہائیڈرنٹ انچارج کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔ واٹر بورڈ کی جانب سے پانی کی فراہمی میں تاخیر ہوئی، جس کی وجہ سے ڈائریکٹر سول ڈیفنس ضلع جنوبی کو بھی معطل کیا گیا۔ ہماری درخواست یہ ہے کہ اس واقعے کی شفاف تحقیقات ہوں اور اس بابت چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ کو خط لکھا جائے گا جس میں یہ درخواست کی جائے گی کہ تحقیقات حاضر سروس جج سے کرائی جائیں۔








