دہشتگردی کرنے والے کسی رعایت کے مستحق نہیں، مذاکرات صرف ایسے گروپس سے کیے جائیں جو آئین و قانون کا احترام کرنے پر آمادہ ہوں
مصنف: رانا امیر احمد خاں
قسط: 291
یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد اور راولپنڈی میں موسلادھار بارش
سیمینار میں گفتگو
تھنک ٹینک سیٹیزن کونسل آف پاکستان کے زیر اہتمام "دہشت گردی، ریاست کے خلاف جنگ" کے موضوع پر ہونے والے ایک سیمینار میں مقررین نے سابقہ حکمرانوں کی غیر سنجیدگی پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 13 برسوں میں ہمارے فوجی اور جمہوری حکمرانوں نے صوبوں اور مرکز کی سطح پر دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے کوئی مؤثر پالیسی اور لائحہ عمل ترتیب نہیں دیا۔
یہ بھی پڑھیں: قطر سے سپلائی مکمل بند، ملک میں کب سے ایل این جی دستیاب نہیں ہو گی؟ جانیے
مناسب اقدامات کی ضرورت
صوبوں کی سطح پر اسپیشل فورسز، اعلیٰ اتھارٹی قائم کرنے، پولیس کو مطلوبہ ٹریننگ اور ہتھیار فراہم کرنے جیسے اقدامات میں ناکامی نے ملک کو مشکلات میں ڈال دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت نے تحریک انصاف کے احتجاج ناکام ہونے کی اندرونی وجہ بے نقاب کردی
اندیشے کا اظہار
معروف دانشور اور سکالر اوریا مقبول جان نے ایک اور سیمینار میں کہا کہ بات چیت صرف ان گروہوں سے کی جائے جو پاکستان کے آئین کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ دہشت گردی کی صورت حال ریاست کے خلاف جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: انصاف پر مبنی فیصلے ہونے چاہئیں، جب تک عمران خان کی فیملی کی تسلی نہیں ہوتی تو یہ کشمکش رہے گی، بیرسٹر گوہر
سپیشل فورس کی تشکیل
ایک مؤثر سپیشل فورس تیار کی جائے جو فوج، پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کے ماہر افراد پر مشتمل ہو، اور جس کی کمان کسی جرنیل کے سپرد کی جائے۔ اس فورس کے فرائض میں دہشت گردوں کا قلع قمع کرنا، ٹارگٹ کلنگ اور بھتہ خوروں کا خاتمہ شامل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی سپین کا بادالونا میں مذمتی اجلاس، عہدیداران و ممبران کی شرکت
شدید سزاؤں کی ضرورت
سٹیزن کونسل کے صدر رانا امیر احمد خاں ایڈووکیٹ نے کہا کہ غیر ملکی طاقتوں کے آلۂ کار دہشت گردوں کے خلاف ایک واضح انٹرنل سیکورٹی پالیسی بنائی جائے، اور ان کے خلاف سخت سزاؤں پر فوری قانون سازی کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتہ کیسا رہا ؟
علمائے کرام کی ذمہ داری
اجلاس میں علمائے کرام سے اپیل کی گئی کہ وہ مسلمانوں کو پیغمبر آخر الزمان کے سچے پیروکار بننے کا درس دیں اور ایک دوسرے کے فرقوں میں تقسیم نہ کرنے کی رہنمائی کریں۔
شرکاء کی فہرست
اجلاس میں دیگر مقررین میں ظفر علی راجا، ڈاکٹر پروفیسر شفیق جالندھری، سابق آئی جی پولیس الطاف قمر، ڈاکٹر محی الدین، پروفیسر مشکور صدیقی، پروفیسر نصیر اے چودھری اور پنجاب یونیورسٹی کی اسسٹنٹ پروفیسر فرح زیبا ایم اکرام چودھری شامل تھے۔
(جاری ہے)
نوٹ: یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








