مطلب دیر سے سمجھ آیا، ہم خود کچھ نہیں ہوتے ”میں“ بھی صرف اللہ ہی کیلئے ہے، ہم تو وسیلہ ہیں،اللہ جب چاہتا ہے کسی کو وسیلہ بنا کر نیکی کاکام کرا دیتا ہے۔
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 423
میں نے پوچھا؛ ”کس نے جاری کرنی ہے؟“ جواب دیا؛”ڈائریکٹر فنانس لوکل گورنمنٹ بورڈ نے۔“ اس نے نام بتایا وہ میرا شناسا تھا۔ افسوس، میں اس نیک افسر کا نام بھول گیا ہوں۔ میں نے دفتر آ کر اسے فون کیا اور ساری بات بتائی اور کہا ”یہ نیکی کا کام ہے جس کی جزا اللہ دے گا۔“
ڈائریکٹر فنانس کی جوابدہی
بات سن کے انہوں نے کہا؛”سر! فکر مت کریں کل پنشن کے آ ڈرز جاری ہو جائیں گے۔“ اس مرد مومن نے اپنا وعدہ نبھایا، اگلے روز آ ڈرز جاری ہو گئے۔ ڈائریکٹر فنانس نے مجھے فون کر کے بتایا؛”سر! پنشن آڈرز جاری ہو گئے ہیں باقی کام ڈائریکٹر لوکل فنڈ آڈٹ بہاول پور نے کرنا ہے۔ ان سے بھی بات کر لیں۔“ میں نے انہیں فون کیا (شاید افتخار نام تھا۔) ساری بات بتائی۔ وہ بولے؛”سر! میں 3 دن کے دورے پر رحیم یار خاں آیا ہوں لیکن اس نیکی میں اپنا حصہ ڈالنے شام کو واپس بہاول پور آ کر یہ کام پورا کرکے دوبارہ چلا جاؤں گا۔“ اللہ ان کو اس کا اجر دے۔ آمین۔ وہ بھی اپنا وعدہ پورا کر گئے تھے۔
جہانزیب کا فون
میری ڈائریکٹر آڈٹ سے بات ختم ہوئی تو جہاں زیب کا فون آ گیا؛”کہنے لگا؛”سر! پنشن ہو گئی ہے بس ڈائریکٹر آڈٹ کا کام باقی ہے۔“ میں نے جواب دیا؛”اللہ نے چاہا تو کل آپ کو چیک مل جائے گا۔ انشا اللہ۔“ اگلے روز چیک اس کے گھر پہنچا دیا گیا۔ جہانزیب کی دعائیں آج بھی میرے کانوں میں گونجتی ہیں۔
نیکی کا واسطہ
میں کمشنر اور دوسرے دوستوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا؛”سر! یہ کام عرصہ سے لٹکا ہوا تھا۔ بس اللہ نے یہ نیکی مجھ سے کرانی تھی اور شاید اسی لئے مجھے بہاول پور ٹرانسفر کرایا تھا۔ سر! ہم صرف وسیلہ ہوتے ہیں۔ یہی حضرت علیٰؓ کے قول کے مطلب ہے ”اللہ نیکی کا موقع ہر شخص کو نہیں دیتا۔“ ویسے اس قول کا مطلب دیر سے سمجھ آیا۔ ہم خود کچھ نہیں ہوتے اور ”میں“ بھی صرف اللہ ہی کے لئے ہے۔ ہم تو وسیلہ ہیں۔ اللہ جب چاہتا ہے کسی کو وسیلہ بنا کر کوئی نیکی کا کام کرا دیتا ہے۔
ابا جی کا قصہ
مجھے ابا جی کا سنایا فیلڈ مارشل ایوب خاں کے مارشل لاء کا ایک قصہ بھی یاد آ گیا۔ لاہور کا ڈپٹی مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہر عیب سے جڑا تھا۔ شراب اور شباب اس کی زندگی کا لازم و ملزوم تھے۔ والد کے گاؤں کا ایک صوبیدار اس کے ساتھ ڈیوٹی کرتا تھا۔ اگلی بات صوبیدار کی زبانی؛
”حمیدپتر! ایک دن دفتر جارہے تھے کہ راستے میں ایک خاتون نے ہاتھ دے کر روکا، اس کے ساتھ 3 چھوٹے بچے بھی تھے۔ جیپ رکی۔ انتہائی خوبصورت خاتون نے خود کو چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔ اس نے ایک درخواست صاحب کو دی۔ سرسری نظر ڈال کر خاتون کو جیپ میں بیٹھا یا اور دفتر چلے آئے۔ راستے میں سوچتا رہا کہ صاحب کی موج ہو گئی۔ کیا من موہنی عورت اس کے ہاتھ لگی ہے۔ معلوم ہوا اس کا خاوند فوت ہو گیا ہے اور خاوند کے بھائیوں نے اس کے گھر اور جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔
اللہ کی کرنی
مخالف پارٹی کو اگلے روز کا نوٹس جاری کیا اور 3 دن میں درخواست کا جواب جمع کرانے کی مہلت دی۔ پیشی پر وہ لوگ آئے تو ہاتھ میں مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر مغربی پاکستان کی چٹھی تھی۔ میں نے لفافے پر بنے مونوگرام سے پہچانا تھا۔ اللہ کی کرنی دیکھ حمید۔ صاحب نے بغیر پڑھے چٹھی ہاتھ میں مسل کر ردی کی ٹوکری میں پھینک دی اور بولا؛”اس عورت کا حصہ اگلے2 گھنٹے میں اس کے حوالے کر دو۔“ مجھے کہا؛ بندے ساتھ لے جاؤ اور 2 گھنٹے میں رپورٹ کرو۔“ واپس آیا تو مجھے کہا؛”صوبیدار صاحب! اللہ نے مجھ سے یہ نیکی کروانی تھی۔ آج سے میں بدلا ہوا انسان ہوں۔“ حمیدپتر! میں اور سارا عملہ حیران رہ گئے تھے۔ اللہ جب جسے جہاں چاہے ہدایت دے۔“ سبحان اللہ۔ (جاری ہے)
نوٹ
یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








