سانحہ بھاٹی گیٹ: ہر لمحہ کرب بھرا رہا، نااہلی چھپانے کے لیے مجرمانہ کہانیاں گھڑی گئیں، متاثرہ فیملی کو کنٹریکٹر سے 1 کروڑ روپے دلوائیں گے: وزیراعلیٰ مریم نواز
واقعہ کی تفصیل
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) گٹر میں گر کر ماں بیٹی کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ پنجاب کا کہنا ہے کہ اس واقعے اور قتل میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کمشنر لاہور، ڈی سی، اے سی، ڈی جی ایل ڈی اے اور ایم ڈی واسا بھی برابر کے ذمے دار ہیں، اور ان سب کو سزا ملنی چاہیے، خصوصاً اسسٹنٹ کمشنر کو بھی۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی وی انتظامیہ نے نئی حکومت کو خوش کرنے کے لیے فواد چوہدری کے نام کی تختی ہٹا دی، لیکن وزیراطلاعات عطا تارڑ کو پتہ چلا تو انہوں نے کیا کیا؟ فواد چوہدری بھی سراہنے پر مجبور
گرفتاریوں کا حکم
وزیر اعلیٰ نے پروجیکٹ کے ڈائریکٹر، منیجر، سیفٹی انچارج اور کنسلٹنٹ کو فوری گرفتار کرنے کا حکم بھی دیا۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر میں قید پاکستانیوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
سانحہ بھاٹی پر بریفنگ
سانحہ بھاٹی کے دوران، وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ انتظامیہ کی نااہلی چھپانے کے لیے مجرمانہ کہانیاں گھڑی گئی ہیں۔ ان کی غفلت کی وجہ سے 2 قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔ یہ تمام باتیں بے معنی ہیں، سوال یہ ہے کہ تعمیراتی جگہ کو کیوں سیکیور نہیں کیا گیا؟
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردوں کو انجام تک پہنچایا جائے گا، وزیراعلیٰ پنجاب کی اسلام آباد میں خود کش دھماکے کی شدید مذمت
واقعے کی تحقیقات
خاتون نالے میں 3 کلومیٹر دور چلی گئی، شہر کی انتظامیہ کہتی رہی کہ کوئی گرا ہی نہیں۔ جو اسسٹنٹ کمشنر تعمیراتی جگہ کا دورہ نہیں کرتا وہ کس بات کا اسسٹنٹ کمشنر ہے؟ اسسٹنٹ کمشنر نے آج تک سائٹ کا دورہ نہیں کیا، وہاں پر کسی قسم کی پارکنگ نہیں ہونی چاہیے تھی۔
یہ بھی پڑھیں: سونے کی مقامی اور عالمی مارکیٹوں میں قیمتوں میں اضافہ ہو گیا
ذمہ داریوں کا تعین
کمشنر، اسسٹنٹ کمشنر سمیت تمام ادارے واقعے کے ذمہ دار ہیں۔ ہر اجلاس میں واضح ہدایات دی جاتی ہیں کہ کوئی مین ہول کھلا نہ رہے، لیکن یہاں انتہائی مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ غیر قانونی پارکنگ پر کسی نے توجہ نہیں دی۔
یہ بھی پڑھیں: جب آپ سوتے ہیں تو یہ کیڑے آپ کے چہرے پر پارٹی کرتے ہیں
وزیر اعلیٰ کا استفسار
وزیر اعلیٰ پنجاب کو بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ تعمیراتی کام کے دوران انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا گیا، اور سائٹ پر موجود تمام لوگ واقعے کے ذمہ دار ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا تعمیراتی کام جاری تھا جب یہ حادثہ ہوا؟ اگر وہاں روشنی ہوتی تو یہ حادثہ پیش نہ آتا۔
یہ بھی پڑھیں: میں نے اپنے شوہر کو دوسری شادی کرنے کا مشورہ دیا تھا، منزہ عارف
ایمبولینس کی تاخیر
Bریفنگ کے مطابق، حادثے کی جگہ پر ایمبولینس 4 منٹ بعد پہنچی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: معلوم ہے ایران کا افزودہ یورینیئم کہاں دفن ہے، حملوں کا اثر پوری دنیا پر پڑا: نیتن یاہو
وزیر اعلیٰ کی ہمدردی
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے کہا کہ سانحے پر میرا دل انتہائی دکھی ہے، اور یہ حادثہ ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں یہ ہرگز قابل قبول نہیں، اور ان کی درخواست تھی کہ ٹیپا اور واسا کے ذمہ داران کے نام کیوں نہیں سامنے لائے گئے۔
مالی امداد کا اعلان
وزیر اعلیٰ مریم نواز نے متاثرہ فیملی کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے اعلان کیا کہ متاثرہ خاندان کو مالی امداد فراہم کی جائے گی، اور کنٹریکٹر سے 1 کروڑ روپے کا معاوضہ دلوایا جائے گا۔








