عمران خان کو ہسپتال لے جانا ضروری، جو بیماری بتائی جارہی ہے اس کے مکمل علاج میں 2 سے 3 سال لگ جاتے ہیں، ڈاکٹر خرم مرزا
عمران خان کی آنکھ کی بیماری کا علاج
راولپنڈی (ڈیلی پاکستان آن لائن) آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر خرم مرزا کا کہنا ہے کہ جو بیماری عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے بتائی جارہی ہے اس کا علاج جیل کے اندر ممکن نہیں۔ اس کے لیے باقاعدہ آپریشن تھیٹر لے جانا ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دانش تیمور کی 4 شادیوں سے متعلق بیان پر شرمیلا فاروقی غصہ میں آ گئیں، شدید تنقید کا نشانہ بنا دیا
ڈاکٹر خرم مرزا کی میڈیا سے گفتگو
اڈیالہ جیل کے باہر شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم یوسف کے ہمراہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے عمران خان کی آنکھ کے علاج کے امکانات پر بات کی۔ ڈاکٹر خرم مرزا لاہور کے حمید لطیف ہسپتال کے آئی سپیشلسٹ ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: رائیونڈ میں 30 روپے کے تنازع پر دو بھائیوں کو قتل کرنے والے ملزمان ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
علاج کے لیے ضروری آلات
انہوں نے میڈیا کو بتایا کہ وہ معائنے کیلئے پورا سامان لے کر آئے ہیں لیکن جو آلات وہ لائے ہیں ان کے ذریعے مکمل علاج نہیں ہوسکتا۔ اس کیلئے بڑی مشینوں کی ضرورت پڑے گی جو کہ ہسپتال میں ہی ممکن ہوسکتی ہیں۔
عمران خان کی بیماری کی نوعیت
انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود تو معائنہ نہیں کیا لیکن جو معلومات ملی ہیں اس کے مطابق عمران خان کو سی آر وی او کی بیماری ہے۔ اس کیلئے سرجری کی ضرورت نہیں پڑتی البتہ نگرانی اور انجیکشن کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر خرم مرزا نے واضح کیا کہ اس بیماری میں عام طور پر تین انجیکشن لگتے ہیں لیکن بیماری کی نوعیت کے اعتبار سے اس سے زیادہ انجیکشنز بھی لگانے پڑ جاتے ہیں۔ انجیکشن لگانے کے بعد بھی مریض کو مسلسل زیر نگرانی رکھنا پڑتا ہے جس میں دو سے تین سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔








