حمزہ شہباز، ن لیگ کا ونڈر بوائے
پاکستان کی سیاست اور خاموش کھلاڑی
پاکستان کی سیاست میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو خاموشی سے منظرنامے میں موجود رہتے ہیں، مگر اچانک فضا میں سرگوشیوں، ملاقاتوں اور غیر محسوس سرگرمیوں کے ذریعے اپنی موجودگی کا احساس دلا دیتے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف بھی انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ وہ سیاسی میدان میں پچھلے تقریباً دو برس تک بظاہر خاموش رہے، مگر اب اقتدار کی راہداریوں، پارٹی حلقوں اور لاہور کے سیاسی مرکز میں دوبارہ زیرِ بحث ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: فیلڈ مارش عاصم منیر بہت ہی متاثر کن اور بہترین شخصیت ہیں، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تعریف کر دی
میاں حمزہ شہباز کا سیاسی سفر
1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد جب شریف خاندان سیاسی جلاوطنی، مقدمات اور دباؤ کا شکار تھا، اس وقت ایک نوجوان میاں حمزہ شہباز شریف کو بغیر والدین کے بطور ضمانت پاکستان میں رکھا گیا۔ یہ وہ دور تھا جب سیاست میں رہنا جرم بن چکا تھا اور شریف خاندان کی ہر حرکت کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ اسی دور نے میاں حمزہ شہباز کی سیاسی نفسیات، برداشت اور خاموش مزاجی کی بنیاد رکھی۔
میاں شہباز شریف کی سیاست ہمیشہ انتظامی کارکردگی، ورکنگ ریلیشن شپ اور بیوروکریسی کے ساتھ ہم آہنگی کے گرد گھومتی رہی ہے، اور حمزہ شہباز اسی اسکول آف تھوٹ کی پیداوار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: بھارتی خاتون امریکہ میں چوری کرنے کے الزام میں گرفتار
صوبائی سیاست میں کردار
2009 سے 2018 تک جب میاں محمد شہباز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ رہے، اس دوران میاں حمزہ شہباز شریف صوبائی سیاست میں خاموش مگر مؤثر کردار ادا کرتے رہے۔ وہ اسپیشل کیبنٹ کمیٹی کے سربراہ رہے، ایک ایسا فورم جہاں فائلیں، فیصلے اور کارکردگی کی بنیاد پر سیاست کی جاتی ہے، نہ کہ کیمروں کے سامنے۔
یہ بھی پڑھیں: شیر افضل مروت کا گالم گلوچ بریگیڈ کے نام کھلا پیغام
سیاسی مزاج اور مقبولیت
میاں حمزہ شہباز شریف کی سب سے بڑی سیاسی طاقت ان کا مزاج ہے۔ وہ ٹھنڈے دماغ سے بات کرنے والے، کم بولنے اور زیادہ سننے والے سیاست دان سمجھے جاتے ہیں۔ پارٹی کے پرانے ورکرز آج بھی یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ میاں حمزہ شہباز ان چند رہنماؤں میں سے ہیں جو کارکن کے گھر خوشی اور غم دونوں میں پہنچتے ہیں، فون سنتے ہیں اور وعدہ کر کے غائب نہیں ہو جاتے۔
یہ بھی پڑھیں: سی ایم انسپکشن ٹیم گوجرانوالہ ٹیچنگ ہسپتال پہنچ گئی، بدانتظامی پر نئی ایم ایس اور پرنسپل فارغ
سیاسی اشارے اور قیادت کی تیاری
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً دو سال تک میاں حمزہ شہباز مکمل طور پر پس منظر میں رہے۔ نہ بیانات، نہ جلسے، نہ میڈیا پر موجودگی۔ مگر اب حالات بدلتے دکھائی دے رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر یہ گفتگو عام ہے کہ میاں حمزہ شہباز اور میاں سلمان شہباز دونوں کو سیاسی طور پر متحرک ہونے کا پیغام دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گوگل میپ کی مدد سے خاتون سے زیادتی کی کوشش ناکام
مستقبل کی حکمت عملی
ان کی خاموشی اب ان کی طاقت بھی بن سکتی ہے اور کمزوری بھی، یہ اس بات پر منحصر ہے کہ وہ آنے والے دنوں میں کس حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔ پارٹی کے اندرونی حلقوں میں یہ بات بھی زیرِ گردش ہے کہ اگر پنجاب میں کسی مرحلے پر قیادت کی ضرورت پڑی، تو میاں حمزہ شہباز شریف ایک فطری انتخاب ہوں گے۔
اختتامی سوالات
آخر میں سوال یہی ہے کہ کیا میاں حمزہ شہباز شریف واقعی متحرک ہو رہے ہیں یا یہ محض سیاسی قیاس آرائیاں ہیں؟ باوثوق ذرائع کے مطابق فی الحال جو کچھ نظر آ رہا ہے، وہ یہ ہے کہ سیاست کے خاموش کھلاڑی دوبارہ شطرنج کی بساط پر آ چکے ہیں۔ میاں حمزہ شہباز شریف اگر میدان میں اترتے ہیں، تو شور کے ساتھ نہیں، بلکہ فائلوں، ملاقاتوں اور خاموش فیصلوں کے ذریعے۔ اور شاید یہی انداز ان کی اصل شناخت ہے۔
نوٹ: یہ مصنف کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔








