پولیس افسران نے مجھ پر تشدد کیا اور بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے رہے: غلام مرتضیٰ
پولیس کے تشدد کا الزام
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) بھاٹی گیٹ کے قریب سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہونے والی خاتون اور بچی کے شوہر نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس افسران نے ان پر تشدد کیا اور بیوی کو قتل کرنے کا اعتراف کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری
غلام مرتضیٰ کی گفتگو
نجی ٹی وی جیو نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے سیوریج لائن میں گرنے والی خاتون کے شوہر غلام مرتضیٰ نے بتایا کہ جب میں بیوی اور بچی کے گرنے کی اطلاع دینے کے لیے پولیس اسٹیشن گیا تو پولیس نے مجھے ہی حراست میں لے لیا۔ ایس پی بلال اور ایس ایچ او زین نے مجھ پر تشدد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی ڈویژن میں گرینڈ آپریشن، قبضہ مافیا سے کروڑوں روپے مالیت کی ریلوے اراضی واگزار کرا لی گئی
واقعہ کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ میری بیوی کے ساتھ کوئی لڑائی نہیں تھی، بلکہ میں او ساتھ سیر کے لیے آیا تھا۔ میں نے بتایا کہ دونوں کو اپنی آنکھوں سے گرتے دیکھا، لیکن ایس پی اور ایس ایچ او کہتے تھے کہ تم جھوٹ بول رہے ہو۔ پولیس نے میرا موبائل فون بھی لے لیا تھا، جب یہ واقعہ پیش آیا تو ایک بیٹا والدہ کے پاس تھا۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے پاکستان کے خلاف آپریشن کو “آپریشن سندور” نام کیوں دیا؟ جانیے
مزید الزامات
غلام مرتضیٰ نے الزام عائد کیا کہ ایس پی اور ایس ایچ او کہتے رہے کہ یہ کہو کہ تم نے اپنی بیوی اور بچی کو قتل کیا ہے، اور پولیس مجھ سے دونوں کا قتل زبردستی منوانا چاہتی تھی۔ پولیس نے میرے ساتھ میرے کزن تنویر کو بھی پکڑا ہوا تھا۔
حقیقت کی تلاش
یاد رہے کہ گزشتہ روز لاہور کے علاقے بھاٹی گیٹ میں داتا دربار کے قریب ایک خاتون اور اس کی بچی سیوریج لائن میں گر کر جاں بحق ہو گئیں۔ ابتدائی طور پر پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے اس خبر کو غلط قرار دیتے رہے اور کہا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ تاہم تقریباً 10 گھنٹے بعد خاتون اور اس کی بچی کی لاشیں 3 کلومیٹر دور سے برآمد ہوئیں۔








