شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں ادا کرنے کا پابند ہے: چیف جسٹس پاکستان
چیف جسٹس پاکستان کے ریمارکس
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی نے کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں ادا کرنے کا پابند ہے۔
یہ بھی پڑھیں: موبی لنک بینک نے پاکستان بینکنگ ایوارڈز 2024 میں ’بہترین مائیکروفنانس بینک‘ کا اعزاز حاصل کرلیا.
کیس کی سماعت
نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق جہیز اور حق مہر کیسز کی سماعت چیف جسٹس پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے کی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاق کی فاٹا کیلئے بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں، پاکستان تحریک انصاف
وکیل درخواست گزار کے دلائل
وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ حق مہر میں 40 تولہ سونا بہت زیادہ ہے، میرا موکل 20 تولہ ادا کرنے کو تیار ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ 20 تولہ سے اور بڑھائیں تو شاید خاتون تصفیہ پر آمادہ ہو جائیں، عدالت ایسے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی۔
یہ بھی پڑھیں: نواز شریف کو مائنس کرنے والے آج خود مائنس ہو گئے: مریم نواز
نکاح نامے کی اہمیت
چیف جسٹس پاکستان نے مزید کہا کہ عورت کے ساتھ جب شادی کرتے ہیں تو نکاح نامے کے تحت ادائیگی لازم ہے، شوہر حق مہر میں لکھی چیزیں اہلیہ کو ادا کرنے کا پابند ہے۔
عدالتی فیصلے
سپریم کورٹ نے جہیز اور حق مہر سے متعلق مختلف درخواستیں خارج کر دی۔








