لاہور میں بسنت منانے کے خلاف درخواست پر حکومت سے جواب طلب
بسنٹ منانے کے خلاف لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں پورے صوبے کے بجائے صرف لاہور میں بسنت منانے کیخلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کرتے ہوئے سپیشل سیکرٹری ہوم کو ریکارڈ سمیت طلب کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیصل واوڈا کسی خاص پیغام کے ساتھ نہیں آئے تھے، مولانا فضل الرحمان کا ملاقات پر رد عمل
درخواست گزار کا مؤقف
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس ملک اویس خالد نے شہری اشبا کامران کی درخواست پر سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ حکومتی سرپرستی میں بسنت منانے کے لیے قانون بنایا گیا ہے اور حکومتی مشینری صرف لاہور میں بسنت منانے کے اقدامات کر رہی ہے، جبکہ صوبے کے دیگر شہروں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آلو کے کاشتکاروں کی بھی سنی گئی، وزیراعلیٰ کا 5 لاکھ ٹن آلو ایکسپورٹ کے آرڈر ملنے کا اعلان
آئینی حقوق اور درخواست کی بنیاد
وکیل نے کہا کہ آئین کے تحت تمام شہریوں کو مساوی حقوق حاصل ہیں اور عوام کا پیسہ صرف ایک شہر میں بسنت فیسٹیول پر خرچ کیا جا رہا ہے، لہٰذا حکومت کو بلا تفریق پورے صوبے میں بسنت فیسٹیول کے لیے اقدامات کا حکم دیا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: دیکھتے ہیں نئی قیادت کیا کرتی ہے، اللہ کرے ہمارے مزاج بدلیں: اعظم سواتی
عدالت کا فیصلہ
عدالت نے درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے صوبائی حکومت سمیت دیگر فریقین سے جواب طلب کر لیا اور سپیشل سیکرٹری ہوم کو تین فروری کو ریکارڈ سمیت پیش ہونے کی ہدایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: آج پھر عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، عدالتوں کے احکامات کو ہوا میں اڑایا جارہا، ایڈووکیٹ نعیم حیدر پنجوتھہ
پی ٹی آئی ایم پی اے کی درخواست
دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس اویس خالد نے پی ٹی آئی کے ایم پی اے شیخ امتیاز کی درخواست پر بھی سماعت کی، دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل اظہر صدیق نے مؤقف اختیار کیا کہ گانے نک دا کوکا میں فحاشی یا کوئی قابلِ اعتراض مواد موجود نہیں، تاہم حکومت نے بلاجواز اسے فحش گانوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک دن میں 583 مردوں کے ساتھ سونے والی 27 سالہ اونلی فینز ماڈل کو ہسپتال منتقل کرنا پڑگیا مگر کیوں؟ شرمناک تفصیلات
پابندیاں اور وکیل کا بیان
وکیل کا کہنا تھا کہ سیاسی شخصیات کی تصاویر والی پتنگیں اڑانے پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، جو غیر ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایک لفظ کو کالا سانپ قرار دیا گیا اور اس نام پر پورے عمل کو متنازع بنانے کی کوشش کی گئی۔
عدالت کی ریمارکس
سماعت کے دوران جسٹس ملک اویس خالد نے استفسار کیا کہ کیا درخواست گزار یہ گانا گنگناتا ہے؟ جس پر وکیل نے جواب دیا کہ درخواست گزار کا تو معلوم نہیں، لیکن میں خود یہ گانا گا سکتا ہوں، اس پر عدالت نے ریمارکس دیے کہ وکیل کی آواز تو ویسے بھی کافی سریلی ہے جبکہ پابندی صرف فحش گانوں پر لگائی گئی ہے۔
نوٹس کا اجرا
عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دونوں درخواستوں پر 2 فروری تک جواب طلب کر لیا۔








