لاہور ہائی کورٹ کا انڈر گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ روکنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکہ، بھارت تعلقات میں نئی پیشرفت
جاں بحق ماں بیٹی کا واقعہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مین ہول میں ماں بیٹی کی گر کر جاں بحق ہونے پر بہت افسوس ہے، عدالت حکم کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی نہ روکنے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں سے اظہار یک جہتی کے لئے سفارت خانہ پاکستان ابوظہبی میں یوم سیاہ کشمیر منایا گیا
عدالت میں رپورٹ
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت کو ماحولیاتی کمیشن کے ممبرز سید کمال حیدر اور میاں عرفان اکرم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجوہ پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی گئی جو توہین عدالت کے مترداف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ نے جس طرح خیال رکھا، کوئی اپنا ہی خیال رکھ سکتا ہے: سیلاب متاثرین کا اظہار تشکر
درختوں کی کٹائی کی نشاندہی
دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے نشاہدہی کرتے ہوئے کہا کہ داتا صاحب کے اطراف سے درختوں کو کاٹنے کی نشاہدہی کی، یہ درختوں کی جان تو لے رہے تھے اب ایک ماں اور ننھی بچی کی جان لے لی ہے، دو روز قبل ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: روز ویلٹ ہوٹل کے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے غور شروع، یا تو مکمل فروخت کردیا جائے یا پھر۔۔۔ وزیردفاع نے اندر کی بات بتادی
عدالت کی برہمی
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت افسوسناک سانحہ ہوا ہے، عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روکتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: یو اے ای کیساتھ تعلقات پر فخر، مزید وسعت دینے کیلئے پر عزم ہیں: محسن نقوی
نتاجی اقدامات
دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی سے درختوں کی کٹائی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پی ایچ اے نے اب تک کیا کیا ہے، ایک میٹنگ نہیں کی، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی پر ڈی جی پی ایچ اے کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا مگر پی ایچ اے کا کردار نظر نہیں آیا۔
آئندہ کی سماعت
عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی والا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجے گے، عدالت نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، جبکہ عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 2 فروری تک سماعت ملتوی کردی۔








