لاہور ہائی کورٹ کا انڈر گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ روکنے کا حکم
لاہور ہائیکورٹ میں سماعت
لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن) لاہور ہائیکورٹ میں سموگ کے تدارک کے لیے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روک دیا۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی قونصلیٹ نے لاہور قلعے میں سکھوں اور مغل دور کے تاریخی ورثے کی بحال شدہ جگہوں کا افتتاح کردیا
جاں بحق ماں بیٹی کا واقعہ
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ مین ہول میں ماں بیٹی کی گر کر جاں بحق ہونے پر بہت افسوس ہے، عدالت حکم کے باوجود پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی نہ روکنے پر وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: شہریار آفریدی کی تھانہ سبزی منڈی کے مقدمے میں 29 اپریل تک ضمانت منظور
عدالت میں رپورٹ
لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شاہد کریم نے شہری ہارون فاروق سمیت دیگر کی درخواستوں پر سماعت کی، عدالت کو ماحولیاتی کمیشن کے ممبرز سید کمال حیدر اور میاں عرفان اکرم کی جانب سے بتایا گیا کہ عدالتی حکم کے باوجوہ پنجاب یونیورسٹی میں درختوں کی کٹائی گئی جو توہین عدالت کے مترداف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیرف معطلی پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال، پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی
درختوں کی کٹائی کی نشاندہی
دوران سماعت وکیل اظہر صدیق نے نشاہدہی کرتے ہوئے کہا کہ داتا صاحب کے اطراف سے درختوں کو کاٹنے کی نشاہدہی کی، یہ درختوں کی جان تو لے رہے تھے اب ایک ماں اور ننھی بچی کی جان لے لی ہے، دو روز قبل ماں اور بیٹی مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں: دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن ہوگا، ریاست کی رٹ چیلنج نہیں ہونے دیں گے، وزیراعلیٰ بلوچستان
عدالت کی برہمی
جسٹس شاہد کریم نے ریمارکس دیے کہ یہ بہت افسوسناک سانحہ ہوا ہے، عدالت نے ٹیکسالی گیٹ اور شیرانوالہ گیٹ پر جاری انڈ گراؤنڈ پارکنگ پروجیکٹ کو روکتے ہوئے ڈی جی ایل ڈی اے اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کیخلاف ملک بھر میں درج مقدمات کی تعداد 186 تک پہنچ گئی
نتاجی اقدامات
دوران سماعت عدالت نے پنجاب یونیورسٹی سے درختوں کی کٹائی پر بھی برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ڈی جی پی ایچ اے نے اب تک کیا کیا ہے، ایک میٹنگ نہیں کی، وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی پر ڈی جی پی ایچ اے کو خود نوٹس لینا چاہیے تھا مگر پی ایچ اے کا کردار نظر نہیں آیا۔
آئندہ کی سماعت
عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے ساتھ میٹنگ کرنے کی ہدایت کردی، عدالت نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے درختوں کی کٹائی والا معاملہ اینٹی کرپشن کو بھی بھیجے گے، عدالت نے وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی اور رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کردیا، جبکہ عدالت نے ڈی جی پی ایچ اے کو بھی عدالت پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے 2 فروری تک سماعت ملتوی کردی۔








