آلو کی گرتی قیمتیں، کاشتکار پریشان، گھاٹے کی وجہ سے نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا
کاشتکاروں کی مشکلات
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) آلو کی گرتی قیمتیں کاشتکاروں کیلیے درد سر بن گئیں۔
یہ بھی پڑھیں: ریلوے کے نظام کی کمپیوٹرائزیشن اور امریکہ سے آنے والے انجنوں کی تربیت کی ضرورت
قیمتوں میں کمی کی تفصیلات
تفصیلات کے مطابق آلو کی گرتی قیمتوں کے باعث کاشت کار پریشان ہیں، ان کا کہنا ہے کہ آلو کی فصل پر 3 لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت آتی ہے لیکن اب کوئی 50 ہزار روپے میں بھی لینے کو تیار نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ایس 9 شکار پور ضمنی الیکشن: آغا شہباز درانی کی کامیابی کے نوٹیفکیشن میں سنگین غلطی سامنے آگئی
زراعت کا گھاٹا
’’جنگ‘‘ کے مطابق کاشت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں زراعت گھاٹے کا سودا بنتی جا رہی ہے اور اب کسی بھی فصل کی پیداواری لاگت پوری کرنا دشوار ہے۔
مڈل مین کا کردار
کاشت کاروں نے بتایا ہے کہ سارا منافع مڈل مین لے جاتے تھے مگر اس بار آلو کی گرتی قیمتوں نے کاشتکاروں کے ساتھ مڈل مین کے بھی چودہ طبق روشن کر دیئے ہیں۔ اڑھائی سے 3 لاکھ روپے فی ایکڑ لاگت والی آلو کی فصل کے 50 ہزار دینے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ گزشتہ فصل میں گھاٹے کی وجہ سے نئی فصل لگانا بھی نا ممکن ہو گیا ہے۔








