فوجی فاؤنڈیشن قومی ایئر لائن خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ نہیں ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن
سیکریٹری نجکاری کمیشن کی وضاحت
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکریٹری نجکاری کمیشن نے واضح کیا کہ فوجی فاؤنڈیشن قومی ایئرلائن خریدنے والے عارف حبیب کنسورشیم کا حصہ نہیں ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نجکاری کا اجلاس سینیٹر افنان اللّٰہ خان کی سربراہی میں ہوا، اس موقع پر سیکریٹری نجکاری نے بریفنگ دی اور بتایا کہ قومی ایئرلائن کے 25 فیصد شیئرز حکومت کے پاس ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ماہواری چیک کرنے کے لیے اسکول پرنسپل نے طالبات کو برہنہ کر دیا
عارف حبیب کنسورشیم کا کردار
انہوں نے بتایا کہ عارف حبیب کنسورشیم کے پاس کاروبار چلانے کا وسیع تجربہ ہے، فوجی فاؤنڈیشن ان کا حصہ نہیں ہے جبکہ قومی ایئر لائن کے 25 فیصد شیئرز حکومت کے پاس ہیں، جن کی ویلیو 45 ارب روپے ہے۔ سیکریٹری نجکاری نے مزید کہا کہ عارف حبیب کنسورشیم نے امریکی ایوی ایشن کنسلٹنسی فرم کو ہائیر کیا، قومی ایئرلائن کا فنانشل کلوز 3 ماہ میں ہوگا، خلیجی ممالک کے ساتھ معاہدوں کو تبدیل کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ شاہ محمود قریشی پارٹی قیادت سنبھالیں گے، سلمان اکرم راجہ
مالی سرمایہ کاری کی تفصیلات
ان کا کہنا تھا کہ عارف حبیب کنسورشیم 125 ارب روپے پی آئی اے میں انویسٹ کرے گا اور 3 ماہ میں 10 ارب روپے حکومت کو جمع کرائے گا۔ سیکریٹری نجکاری نے کہا کہ قومی ایئرلائن کی کل ویلیو 9 ارب روپے ہے، فنانشل کلوز ہونے پر قومی ایئرلائن کی ویلیو 180 ارب روپے ہوجائے گی، ایئر لائن کا بزنس پلان 1 ماہ میں پیش کیا جائے گا، اس کے جہاز 4 سال میں 40 ہوجائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: قلات بس حملے میں زخمی صابری قوال گروپ کے رکن نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
ایئرلائن کی بندش کی قیمت
انہوں نے کہا کہ قومی ایئرلائن کو بند کرنے کی قیمت 200 سے 300 ارب روپے ہوتی، اگر ایئر لائن کو بند کیا جاتا تو تمام واجبات حکومت کو ادا کرنا پڑتے اور اس کے پنشنرز کو 34 ارب روپےکی ادائیگی بھی حکومت کو ادا کرنا پڑتی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا خلیج میں ایندھن سمگلنگ کرنے والا جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ
ایئرپورٹس کی نجکاری پر گفتگو
دوران اجلاس افنان اللّٰہ خان نے کہا کہ اسلام آباد ایئر پورٹ کی نجکاری کردیں یا سہولیات بہتر کریں، کراچی ایئر پورٹ پر چوہے گھومتے ہیں، حکومت ان ائیر پورٹس کی نجکاری کرے گی۔ سینیٹر پلوشہ خان نے کہا کہ کیا اب حکومت خود کوئی کام نہیں کرسکتی؟ وہ سارے باہر والے کریں گے، پارلیمنٹ میں بھی ہاتھی نہیں چوہے گھومتے رہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: روہنگیا مسلمانوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک، اقوام متحدہ نے بھارت سے جواب طلب کر لیا
بین الاقوامی دلچسپی
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب، ترکیے، یو اے ای کی کمپنیاں ایئر پورٹس چلانے میں دلچسپی رکھتی ہیں، ایشیائی ترقیاتی بینک بھی ایئرپورٹس کی آوٹ سورسنگ میں مدد میں دلچسپی رکھتا ہے، بڑے ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ سے چھوٹے ایئر پورٹس کو زیادہ بہتر کیا جا سکے گا۔
یہ بھی پڑھیں: انشاءاللہ آج کراچی کی تاریخ کا بڑا جلسہ ہوگا اور جس کو یہ روکنے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں وہ جلسہ تو ہوگا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
حکومتی جواب دہی
دوران اجلاس سینیٹر عمر فاروق نے کہا کہ ہمیں قومی ایئرلائن کی نجکاری کے طریقہ کار پر اعتراض ہے۔ چیئرمین کمیٹی نے جواب دیا کہ قومی ایئر لائن کا سالانہ 100 ارب کا نقصان تھا، اب نجکاری پر اعتراض کر رہے ہیں، حکومت کا 17 ہزار ارب روپے مجموعی بجٹ ہے، 900 ارب روپے بچ جائیں تو بڑی بات ہوگی۔
بڈنگ اور نگرانی کی تفصیلات
سیکریٹری نجکاری نے شرکاء کو بتایا کہ قومی ایئر لائن کے کسی بڈرز کو کوئی رعایت نہیں دی گئی، عارف حبیب گروپ کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواست زیر التوا ہے، یہ درخواست کسی کو نا اہل قرار دینے کی بنیاد نہیں ہے۔ سیکریٹری نجکاری نے مزید کہا کہ قومی ایئرلائن کے بڈرز کی فنانشل مینجمنٹ یونٹ سے اسکروٹنی کرائی گئی، ورلڈ بینک، ایف بی آر اور دیگر اداروں سے رپورٹ مانگی گئی۔








