جڑواں شہروں میں بیک وقت اذان اور نماز کے اوقات کی منظوری
وفاقی حکومت کا فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وفاقی حکومت نے مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد کے فروغ کے لیے اسلام آباد اور راولپنڈی میں اذان اور نماز باجماعت کے اوقات کے لیے متحدہ نظام کی منظوری دے دی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: افغان طالبان اور دہشت گرد شدید دباؤ اور مایوسی کا شکار ہیں، باجوڑ میں معصوم شہریوں پر حملہ کیا، عطا ءتارڑ
مشاورتی اجلاس کی تفصیلات
یہ فیصلہ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سردار محمد یوسف کی زیر صدارت ہونے والے مشاورتی اجلاس میں کیا گیا، جس میں تمام مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور تاجر برادری کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں شرکاء نے متفقہ طور پر ایک ہی نماز کے شیڈول کو اپنانے پر اتفاق کیا۔
یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا اور پنجاب میں ضمنی انتخابات، الیکشن کمیشن نے ذرائع ابلاغ کے لیے ضابطۂ اخلاق جاری کردیا
نظام کا نفاذ اور قوانین
سردار محمد یوسف نے کہا کہ اذان اور نماز کے متحدہ اوقات کا باقاعدہ کیلنڈر جلد جاری کیا جائے گا، جبکہ اس نظام کو پورے ملک میں نافذ کرنے کے لیے وزارتِ مذہبی امور کے ذریعے قانون سازی کا عمل پہلے ہی جاری ہے۔ اسلام آباد میں اس نظام کا نفاذ ملک بھر کے لیے ایک عملی ماڈل ثابت ہوگا۔ جڑواں شہروں کے تاجروں نے بھی اذان کے بعد رضاکارانہ طور پر دکانیں بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ نماز باجماعت کی ادائیگی میں سہولت فراہم کی جا سکے۔
اقدامات کا مقصد
وفاقی حکومت اس نظام کو ابتدائی طور پر جمعہ کی نماز سے شروع کرنے پر غور کر رہی ہے، جس کے بعد اسے مرحلہ وار دیگر علاقوں تک توسیع دی جائے گی۔ وزیر مذہبی امور کے مطابق اس اقدام کا مقصد مسلم معاشرے میں مذہبی اتحاد اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا ہے۔








