تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا، حافظ نعیم الرحمان
امیر جماعتِ اسلامی کا اظہارِ خیال
لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے سانحہ داتا دربار پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے پنجاب حکومت، پولیس نظام اور اختیارات کے موجودہ ڈھانچے پر کڑی تنقید کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دوسروں کی خوشنودی کی ضرورت نہیں، اپنی اہمیت کیساتھ کسی کا تقابل ترک کر دیں، اس الجھن سے نجات پا لیں گے تو کامیابیاں حاصل کر سکیں گے.
پنجاب میں "گڈ گورننس" کا پردہ فاش
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پنجاب میں نام نہاد "گڈ گورننس" اور "تھانہ کلچر" کا پول ایک ہی واقعے نے کھول کر رکھ دیا ہے۔ ان کے مطابق ایک حادثے کو پہلے "فیک نیوز" قرار دیا گیا اور پھر مظلوم شہری کو مجرم ثابت کرنے کے لیے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: فیض حمید کی سزا ابتداء، لمبا چوڑا انصاف کا سلسلہ رکے گا نہیں: فیصل واوڈا
عدالتی کارروائیاں اور اصل مسئلے کی موجودگی
انہوں نے کہا کہ جب تمام حربے ناکام ہوگئے اور حقیقت سامنے آگئی تو نمائشی کارروائی کرتے ہوئے عدالت لگائی گئی اور چند افسران کو برطرف کرنے کا شاہی فرمان جاری کر دیا گیا، لیکن اصل مسئلہ جوں کا توں موجود ہے۔
یہ بھی پڑھیں: منشیات کے مقدمے میں ملزم کی درخواست ضمانت؛ آئی جی پنجاب 11 اپریل کو طلب
تھانے کی طاقت کا سوال
امیر جماعت اسلامی نے سوال اٹھایا کہ آخر تھانے کو یہ جرات اور اختیار کس نے دیا کہ وہ ایک مظلوم شہری پر تشدد کرے؟ انہوں نے پنجاب میں بااختیار نچلی سطح کے بلدیاتی نظام کی عدم موجودگی کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
یہ بھی پڑھیں: عطاتارڑ نے پی ٹی آئی سے مذاکرات کی تردید کر دی
منتخب نمائندوں کی ضرورت
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ اگر میونسپل سروسز کا ذمے دار عوام کو جوابدہ منتخب کونسلر یا یونین کونسل چیئرمین ہوتا تو ایسے واقعات پیش نہ آتے۔ انہوں نے وزیراعظم کے مشیر کے بیان پر بھی تنقید کی جنہوں نے یہ کہہ کر ذمہ داری سے جان چھڑانے کی کوشش کی کہ گٹر پر ڈھکن لگانے کی ذمہ داری وزیراعلیٰ کی نہیں بلکہ یونین کونسل کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بھارت نے بہتان کو خارجہ پالیسی بنا لیا ، اقوام متحدہ کی ٹیموں نے دیکھ لیا پاکستان میں دہشتگردی کا کوئی ٹھکانہ نہیں: شیری رحمان
اختیارات کا مرکزی خاندان
انہوں نے سوال کیا کہ اگر یونین کونسل ذمہ دار ہے تو اس کا منتخب چیئرمین کہاں ہے؟ اختیارات کا مرکز و محور ایک ہی خاندان کیوں بنا ہوا ہے؟
نیا نظام درکار
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کو اداکاری اور نمائشی اقدامات کی نہیں بلکہ ایک نئے نظام کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق تمام اختیارات ایک خاندان کے ہاتھ میں رکھنے کا نظام اب مزید نہیں چل سکتا اور اسے بدلنا ناگزیر ہو چکا ہے۔








