سپریم کورٹ نے پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح جاری کردی، ایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) سپریم کورٹ نے پولیس اور شہری کے تعلق کی نئی تشریح جاری کردی ، ایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار دے دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس کو حساس معلومات دینے کا کیس، وزارت دفاع کے 4 ملازمین کو سزا سنا دی گئی
فیصلے کی تفصیلات
فیصلہ جسٹس صلاح الدین پنہور نے تحریر کیا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ فوجداری معاملات میں ریاستی رویے میں بڑی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے۔پولیس کو درخواستوں میں بخدمت جناب ایس ایچ او لکھنے پر پابندی عائد کی جاتی ہے، نوآبادیاتی سوچ کو مسترد کیا جاتا ہے۔ ایس ایچ او عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، اب ایس ایچ او کو صرف جناب SHO لکھا جائے گا، غلامانہ زبان ختم کی جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیمرا کی جانب سے کورٹ رپورٹنگ پر پابندی کالعدم قرار
نئی اصطلاحات اور تعریفیں
جاری فیصلے کے مطابق ایف آئی آر درج کروانے والا شہری اطلاع دہندہ ہوگا، شکایت کنندہ نہیں، شکایت کنندہ کی اصطلاح صرف نجی فوجداری شکایت تک محدود ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: اسرائیل کا قطر پر حملہ، افغان حکومت کا سخت رد عمل سامنے آگیا
پولیس کارروائی میں تبدیلیاں
سپریم کورٹ نے فیصلے میں مزید کہا کہ پولیس کارروائی میں “فریادی” کا لفظ بھی ممنوع قرار دیا جاتا ہے، لفظ فریادی رحم مانگنے کا تاثر دیتا ہے، حق مانگنے کا نہیں۔ ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر ناقابلِ قبول ہے، پولیس افسران کو سخت وارننگ دی جاتی ہے۔ ایف آئی آر میں تاخیر پر ضابطہ فوجداری کے تحت مقدمہ بن سکتا ہے، ایف آئی آر میں تاخیر سے شواہد ضائع ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
سماجی میڈیا پر رد عمل
سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ
ایس ایچ او کو بخدمت جناب لکھنا ممنوع قرار
پولیس کو درخواستوں میں “بخدمت جناب SHO” لکھنے پر پابندی، نوآبادیاتی سوچ مسترد، فیصلہ سپریم کورٹ
عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ، SHO عوام کا خادم ہے، عوام اس کے نوکر نہیں، فیصلہ سپریم کورٹ
اب SHO کو صرف “جناب SHO”…— imran waseem (@imranwaseem92) January 30, 2026







