تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہورہا صرف انٹیلیجنس بیس آپریشنز ہو رہے ہیں، سیکیورٹی حکام کی میڈیا نمائندوں کو بریفنگ
کراچی میں سیکیورٹی حکام کی بریفنگ
کراچی(ڈیلی پاکستان آن لائن) سیکیورٹی حکام نے شہر میں میڈیا نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ تیراہ میں کوئی بڑا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے بلکہ صرف انٹیلیجنس بیس آپریشنز جاری ہیں۔ حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ تیراہ میں فوج کی تعداد میں کہیں بھی اضافہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: حریم سہیل نے سہیلی کے دوست سے شادی کا انکشاف کردیا
انٹیلیجنس بیس آپریشنز کی تفصیلات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق، پچھلے 3 سال سے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف انٹیلیجنس بیس آپریشنز جاری ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد دہشتگردوں کے خلاف انٹیلیجنس معلومات کی روشنی میں عملدرآمد کرنا ہے۔ یہ کارروائیاں آخری دہشتگرد کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔ اس کے علاوہ، تیراہ میں ہونے والے آپریشن کے بارے میں جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: یہ کیسی مفاہمت ہے کہ ارکان کا حلف اُٹھانے کا راستہ روک دیا گیا؟سینیٹر عرفان صدیقی
چیک پوسٹس اور موجودہ حالات
سیکیورٹی ذرائع نے مزید بتایا کہ تیراہ میں نہ تو اندر جانے اور نہ ہی باہر جانے کے لیے کوئی چیک پوسٹ قائم کی گئی ہے۔ موجودہ موسم بھی بڑے آپریشن کے لیے موزوں نہیں ہے۔ عوام اور فوج کے تعلقات میں کوئی دراڑ پیدا نہیں کر سکتا۔ فیصلے ہمیشہ قبائلی عوام اور معززین کی مشاورت سے کیے جاتے ہیں، جس میں مقامی حالات اور روایات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔
بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف عوامی آگاہی
بلوچستان میں فتنہ الہندوستان عوام کی ترقی کا دشمن ہے۔ احساس محرومی کا نعرہ لگا کر دہشتگردی کرنے والوں کو بلوچستان کے عوام نے پہچان لیا ہے۔








