یوتھ فیسٹیول کے نام سے کھیلوں کا پروگرام شروع ہوا، نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنا تھا، مقصد اچھا تھا مگر کاغذوں کا گورکھ دھندا تھا کہ سمجھ سے باہر
مصنف کی معلومات
مصنف: شہزاد احمد حمید
قسط: 424
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے اسسٹنٹ کوچ ٹم نیلسن کو فارغ کرنے کا فیصلہ
یوتھ فیسٹیول کا آغاز
خادم اعلیٰ کے دور میں "یوتھ فیسٹیول" کے نام سے کھیلوں کا پروگرام شروع ہوا جس کا مقصد نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنا تھا۔ خاص طور پر دیہات کے روایتی کھیل جیسے کبڈی، والی بال، دیسی کشتی، رسہ کشی اور گھڑ دوڑ وغیرہ کو پھر سے زندہ کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے خطیر رقم رکھی گئی تھی۔ مقصد اچھا تھا مگر اس میں کاغذوں کا ایسا گورکھ دھندا تھا کہ سمجھ سے باہر رہا۔ عملی کام کم اور کاغذوں پر زیادہ زور تھا۔
یہ بھی پڑھیں: الیکشن کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی
ذرائع ابلاغ میں بے نقابی
مہر رشید نے ایک روز مجھے اپنے دفتر بلایا۔ وہاں اس پروگرام سے متعلق کاغذ اور پمفلٹ زمین پر بکھرے دیکھ کر بہت دکھ ہوا۔ اس میں مختلف قسم کے فارم تھے جن کے خانے اتنے تنگ تھے کہ "لکھے موسیٰ پڑھے خودآ" کا معاملہ بن گیا۔ ان خانوں میں لکھنا ایک فن تھا اور پڑھنا ایک امتحان۔ اس پروگرام سے کھیلوں کی کیا خدمت ہونی تھی؟
یہ بھی پڑھیں: اگر پی ٹی آئی کو تحریک کامیاب بنانی ہے تو مزید کسی جماعت کی سپورٹ حاصل کرنا ہوگی: تجزیہ کار حسن عسکری
کمیشنر کی مخالفت
کمشنر اس پروگرام میں ہونے والی گڑبڑ سے خوب آگاہ تھے اور سرے سے پروگرام کے بھی خلاف تھے۔ اس پروگرام کی ایک "ریو میٹنگ" بہاول پور میں تھی جس میں سپورٹس بورڈ اور وزارت کھیل کے دیگر افسران شریک تھے۔ کمشنر نے خوب ان پر بھڑاس نکالی اور کہا؛ "مجھے تو اس پروگرام میں ماسوائے کرپشن کے کوئی دوسری چیز نظر نہیں آئی۔"
یہ بھی پڑھیں: سلمان علی آغا کا سکواڈ میں تبدیلی اور بابراعظم کے بارے میں بڑا دعویٰ
غلط ادائیگیاں اور رپورٹس
ہر ڈویثرن میں کروڑوں کی بھیجی گئی اسٹیشنری صرف ردی کے کام آئی تھی۔ سپورٹس مین کے حصے تو کچھ نہ آیا اور ہماری رپورٹ کے مطابق صرف بہاؤ پور ڈویثرن میں 15 سے 20 لاکھ روپے کی غلط ادائیگیاں کی گئی تھیں۔ یہ رپورٹ حکام کے حوالے کی گئی اور باقی رپورٹس کی طرح یہ رپورٹ بھی کسی ردی کی ٹوکری کی نظر ہوگئی۔
یہ بھی پڑھیں: نوشہرہ میں زہریلی شراپ پینے سے 6 افراد ہلاک، 9 کی حالت غیر
ڈینگی مچھر کی کہانی
خادم اعلیٰ کئی بار بہاول پور تشریف لائے۔ ایک دورے پر تو ڈرنگ اسٹیڈیم میں لوڈ شیڈنگ پر احتجاج کے طور پر خیموں میں اپنا عارضی دفتر قائم کیا۔ ایک اور چالاکی کا ذکر بھی آپ کو حیران کر دے گا۔ ڈینگی کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔ ہر طرف پریشانی اور خوف کا عالم تھا۔ خادم اعلیٰ ایک اجلاس کی صدارت فرما رہے تھے۔ اس اجلاس میں کہیں سے کوئی اڑتا مچھر انہوں نے اپنے ہاتھوں سے مارا اور مرے مچھر کو خادم اعلیٰ کو دکھاتے کہا؛ "سر! ڈینگی مارا ہے۔" خادم اعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء سے کہا؛ "مجھے آپ سب سے ایسی ہی توقع ہے۔"
نوٹ
یہ کتاب "بک ہوم" نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔








