دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کو صوبائی سطح کا معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پوری قوم اور وطن عزیز پاکستان کے خلاف جنگ قرار دیا جائے

مصنف

رانا امیر احمد خاں

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی نے سانحہ سوات کے لواحقین میں 20،20 لاکھ روپے کے چیک تقسیم کر دیئے

قسط

292

موضوع: دہشت گردی پر کیسے قابو پایا جا سکتا ہے

سٹیزن کونسل آف پاکستان کے تھنک ٹینک نے طویل غور و خوص کے بعد دہشت گردی پر قابو پانے کی متعدد تجاویز کے گہرے مطالعے اور تجزیے کے بعد کراچی میں ہونے والی دہشت گردی اور بھتہ خوری سے متعلق وسیع مشاہدہ اور تجربہ کے حامل میجر (ر) محمد شبیر احمد (ستارہ شجاعت) کی پیش کردہ تجاویز کو ایک موْثر لائحہ عمل قرار دیا ہے۔ اس لائحہ عمل کے اہم نکات حسب ذیل ہیں:

اہم نکات

  1. یہ کہ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کو صوبائی سطح کا معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ اسے پوری قوم اور وطن عزیز پاکستان کے خلاف جنگ قرار دیا جائے۔
  2. یہ کہ اس جنگ سے عہدہ برا ہونے کی ذمہ داری صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ وفاقی حکومت کے فرائض میں شامل ہو۔
  3. یہ کہ جنگ لڑنے کی ذمہ داری رینجرز یا پولیس کو نہیں سونپی جا سکتی کیونکہ وہ دہشت گردی کے تمام حربوں سے نپٹنے کی تربیت اور تجربہ نہیں رکھتیں۔ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ دہشت گردی اور بھتہ خوری پر مؤثر اور مستقل قابو پانے کے لیے ایک علیٰحدہ سپیشل خاص فورس تیار کی جائے۔
  4. یہ کہ اس خاص فورس میں جوانوں کی تعداد پورے ملک میں دہشت گردی کے لاحق خطرات کو مدنظر رکھ کر مقرر کی جانی چاہیے اور اسے موجودہ 6 لاکھ فوج سے ہی لیا جانا چاہئے۔

مجوزہ فورس کی تشکیل اور فرائض

مجوزہ فورس کی تشکیل اور فرائض میں حسب ذیل امور کو مدِنظر رکھا جائے:

  1. اس فورس کے پاس دہشت گردوں اور بھتہ خوروں کے خلاف کارروائی کے ازخود اختیارات ہونے چاہئیں تاکہ دہشت گردوں کو ضوابط کی پیچیدگیوں سے فائدہ اٹھانے کے مواقع نہ مل سکیں۔
  2. یہ فورس پورے پاکستان میں ہر جگہ کارروائی کرنے کے اختیارات رکھتی ہو۔ اس سلسلے میں اگر کسی قانون سازی کی ضرورت ہو تو بلاتاخیر ضروری قانون سازی کی جائے۔ یہ قانون سازی وفاقی سطح پر ہونا چاہیے۔

سیکیورٹی کی ذمہ داریاں

مندرجہ ذیل مقامات کی حفاظت کی ذمہ داری اس فورس کو سونپی جائے:

  1. تمام فوجی ہیڈ کوارٹرز اور حساس نوعیت کے مقامات جہاں بیش قیمت جنگی آلات موجود ہیں۔
  2. تمام اہم حکومتی دفاتر اور وہ مقامات جہاں اہم حکومتی تنصیبات موجود ہیں۔
  3. مواصلاتی مقامات جن میں سرکاری اور غیر سرکاری میڈیا شامل ہے۔
  4. دیگر ہائی پروفائل عمارات اور مقامات۔

حفاظتی اقدامات

مندرجہ ذیل حفاظتی اقدامات اور کارروائیاں بھی اس فورس کی ذمہ داری میں شامل ہوں:

  1. حساس علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد اور کشیدگی کی حوصلہ افزائی کرنے والوں کے خلاف فوری کارروائی۔
  2. ٹارگٹ کلنگ، گینگ وار، اغواء برائے تاوان اور بھتہ خوروں کے خلاف بلاتفریق، بے دریغ اور بلاامتیاز فوری اقدامات۔
  3. یرغمال بنائے گئے افراد کی سراغ رسانی اور بازیابی کے لیے مؤثراور ازخود کارروائی کا اختیار۔

(جاری ہے)

نوٹ: یہ کتاب ”بک ہوم“ نے شائع کی ہے (جملہ حقوق محفوظ ہیں) ادارے کا مصنف کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...