عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کوپاکستانی دریاؤں پرقائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دیدیا

عالمی ثالثی عدالت کا حکم

ہیگ (مانیٹرنگ ڈیسک) عالمی ثالثی عدالت نے بھارت کو پاکستانی دریاؤں پر قائم پن بجلی منصوبوں کا ریکارڈ پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں: مومنہ اقبال کی بولڈ تصاویر، سوشل میڈیا صارفین کا ردعمل سامنے آ گیا

ریکارڈ جمع کرانے کی تاریخ

ہیگ میں قائم عالمی ثالثی عدالت کے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ بھارت 9 فروری 2026 تک بگلیہار اورکشن گنگا کے آپریشنل لاگ بکس جمع کرائے، ریکارڈ فراہم نہ کرنے کی صورت میں بھارت کو باضابطہ طور پر وجہ بتانا ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: چوہدری شجاعت مسلم لیگ ق کے بلامقابلہ صدر منتخب ہو گئے

پونڈیج لاگ بکس کی اہمیت

’’جیو نیوز‘‘ کے مطابق عدالت نے کہا کہ پونڈیج لاگ بکس کیس کے لیے براہِ راست متعلق اور اہم ہیں، یہ ریکارڈ زیادہ سے زیادہ قابلِ اجازت پونڈیج کے تعین میں مدد دیتے ہیں۔ عبوری ریلیف دینے کا اختیار صرف ثالثی عدالت کو ہے، نیوٹرل ایکسپرٹ کو عبوری اقدامات دینے کا اختیار حاصل نہیں۔ پاکستان 2 فروری 2026 تک یہ واضح کرے کہ وہ کون سی دستاویزات چاہتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سونے کی فی تولہ قیمت میں 3700روپے اضافہ

کیس کی سماعت کی تاریخ

عدالت کے مطابق کیس کے میرٹس کے دوسرے مرحلے کی سماعت 2 اور 3 فروری کو دی ہیگ میں ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: حبا بخاری نے حاملہ خواتین کو مشورے دے دیئے

پاکستانی وفد کی روانگی

ذرائع کے مطابق اٹارنی جنرل کی قیادت میں اعلیٰ سطح کا پاکستانی وفد کل دی ہیگ روانہ ہوگا، وفد میں پاکستان کے انڈس واٹرز کمشنر سید مہر علی شاہ شامل ہوں گے جبکہ نیدرلینڈ میں پاکستان کے سفیر اور پاکستان کی بین الاقوامی قانونی ٹیم بھی وفد کا حصہ ہوگی۔

پاکستان کا مؤقف

پاکستان کا مؤقف ہے کہ بھارت نے سندھ طاس معاہدے کی پن بجلی شقوں کا غلط استعمال کیا ہے۔

Related Articles

Back to top button
Doctors Team
Last active less than 5 minutes ago
Vasily
Vasily
Eugene
Eugene
Julia
Julia
Send us a message. We will reply as soon as we can!
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Mehwish Sabir Pakistani Doctor
Ali Hamza Pakistani Doctor
Maryam Pakistani Doctor
Doctors Team
Online
Mehwish Hiyat Pakistani Doctor
Dr. Mehwish Hiyat
Online
Today
08:45

اپنا پورا سوال انٹر کر کے سبمٹ کریں۔ دستیاب ڈاکٹر آپ کو 1-2 منٹ میں جواب دے گا۔

Bot

We use provided personal data for support purposes only

chat with a doctor
Type a message here...