پی ٹی آئی قیادت کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے، نہیں کرسکتے تو عہدہ چھوڑ دیں، علی محمد خان
پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت پر زور
اسلام آباد (ویب ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ پی ٹی آئی کی سیاسی قیادت کو بولڈ فیصلے کرنے ہوں گے اور اگر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکتا تو پھر عہدہ چھوڑ دے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب کا صحافی سلمان مسعود کے والد کے انتقال پر اظہار افسوس
سچی بات اور سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت
ایکسپریس نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی علی محمد خان نے کہا کہ ہمیں سچی بات کرنی چاہیے، ہلکے پھلکے اقدامات سے بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی راہ ہموار نہیں ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حل کا راستہ صرف سیاسی ڈائیلاگ میں ہی ہے، یا تو پھر ملک بھر میں بھر پور پرامن احتجاج کریں تاکہ حکومت بانی پی ٹی آئی کی رہائی پر مجبور ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیں: وزیر اعظم کا متحدہ عرب امارات کی خورفکان بندرگاہ میں شہریوں کے زخمی ہونے پر اظہار تشویش
پارٹی قیادت کے عزم
پارٹی قیادت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فیصلہ کن قدم نہیں اٹھا سکتا تو پھر عہدہ چھوڑ دے، ہمیں حکومت سے دو ٹوک بات کرنی ہے، ہمیں بانی پی ٹی آئی کو بھٹو نہیں بنانا، ہمیں وہ زندہ باہر چاہیے۔ ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی نے خود مجھے سیاسی کمیٹی میں ڈالا تھا لیکن موجودہ قیادت نے مجھے کمیٹی سے نکال دیا، میں پھر بھی نئی لیڈر شپ اور کمیٹی اراکین کو سپورٹ کرتا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران کا خلیج میں ایندھن سمگلنگ کرنے والا جہاز ضبط کرنے کا دعویٰ
ڈاکٹروں سے ملاقات کی اہمیت
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کو کوئی عارضہ لاحق ہے تو ڈاکٹروں سے ملنے دیں، ڈاکٹر فیصل سلطان یا شوکت خانم کی ٹیم کی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہوجانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شوکت خانم کے ڈاکٹرز کا ٹریک ریکارڈ ہے، ان ڈاکٹروں نے خود کو میڈیکل معاملات تک محدود رکھا ہے، سیاسی بات کبھی نہیں کی، ڈاکٹر صاحبان کو ملاقات کی اجازت دی جائے تو یہ معمہ حل ہو جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پچھلے انتخابات میں باپ پارٹی نے مخصوص نشستوں کی فہرست داخل کی تھی، اس لیے ہم نے بعد میں فہرست داخل کی، سلمان اکرم راجہ
بحالی کی امید
ان کا کہنا تھا کہ ہم ریلیف ملنے کی امید کرتے ہیں، ہمیں بانی سے ملاقات کی رسائی دی جائے۔ علی محمد خان نے کہا کہ چیف جسٹس سے سلمان اکرم راجا کی ملاقات ہونا خوش آئند ہے، ملاقات صبح ہی ہو جانی چاہیے تھی لیکن اچھی بات ہے کہ خیر سے ملاقات ہوگئی۔
امید کی کرن
انہوں نے کہا کہ میں پرامید ہوں کہ ڈاکٹر صاحبان سے بانی پی ٹی آئی کی ملاقات ہو جائے گی۔








