افسران بالا نے غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا، اس پر ہلکا پھلکا تشدد کیا تھا، ایس ایچ او کا اعتراف
لاہور میں خاتون کے شوہر پر تشدد کی انکوائری مکمل
لاہور (ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے حکم پر بھاٹی کے علاقے میں جاں بحق ہونے والی خاتون کے شوہر پر تشدد کے معاملے کی انٹرنل کاؤنٹیبلٹی برانچ نے انکوائری مکمل کر لی۔
یہ بھی پڑھیں: وال اسٹریٹ جرنل نے بلال بن ثاقب کو دنیا کے بااثر ترین کرپٹو رہنماؤں میں سے قرار دے دیا
انکوائری کے تفاصيل
نجی ٹی وی ایکسپریس نیوز کے مطابق، پولیس نے کہا کہ انکوائری ایڈیشنل آئی جی عمران محمود، ڈی آئی جی ناصر عزیز ورک اور ڈی آئی جی عمران کشور نے کی۔ رپورٹ کے مطابق، ایس پی اور ایس ایچ او نے بیان دیا کہ افسران بالا نے غلام مرتضیٰ کو گرفتار کرنے کا حکم دیا تھا۔ غلام مرتضیٰ پر ہلکا پھلکا تشدد کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: سبی اور اطراف میں زلزلے کے جھٹکے
پولیس افسران کی غلطیاں
انکوائری میں ایس پی سٹی بلال اور ایس ایچ او بھاٹی قصور وار قرار دئیے گئے۔ دونوں پولیس آفیسرز نے غلام مرتضیٰ کو موقع سے تھانہ بھاٹی لے جایا، لیکن دیگر رشتے داروں سے پوچھ گچھ نہیں کی۔ دونوں نے فوراً لڑکی کے والد کو فون کر دیا اور ایک رشتے دار تنویر کو تھانے میں بٹھا لیا۔
یہ بھی پڑھیں: Boris Johnson Reveals Biden’s Compliment on His Wife’s Beauty
غیر قانونی حراست اور نتائج
رپورٹ کے مطابق، دونوں پولیس آفیسرز غلام مرتضیٰ پر ایس ایچ او کے کمرے میں تشدد کرتے رہے۔ ایس ایچ او کے کمرے میں نصب کیمرے کی ویڈیو سے بھی شہادت حاصل کی گئی۔ غلام مرتضیٰ کو پونے 5 گھنٹے غیر قانونی حراست میں رکھا گیا۔ انکوائری ٹیم نے شور کوٹ جا کر غلام مرتضیٰ کا بیان بھی ریکارڈ کر لیا، جس میں اس نے بتایا کہ پولیس آفیسرز نے بیوی اور بیٹی کو قتل کرنے کا الزام قبول کرنے کا دباؤ ڈالا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کی لاہور پریس کلب کے نومنتخب عہدیداروں کو مبارکباد
انکوائری رپورٹ کی سفارشات
انکوائری رپورٹ میں دونوں پولیس آفیسرز کے خلاف محکمانہ کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ یہ رپورٹ آئی جی پنجاب کو پیش کر دی گئی، جو کہ وزیراعلیٰ پنجاب کے سامنے رکھیں گے۔
میڈیا کی کوریج اور زیر حراست افسران
میڈیا پر غلام مرتضیٰ پر تشدد کی خبر نشر ہونے کے بعد ایس ایچ او کو معطل کر دیا گیا تھا۔ ملزم پولیس آفیسرز نے کہا کہ ہمیں ریسکیو اور دیگر اداروں نے بتایا کہ یہاں خاتون کا ڈوبنا ناممکن ہے، اس لئے شبے میں ہم غلام مرتضیٰ کو تھانے لے گئے۔








