لاہور، بسنت فیسٹیول، افتتاحی اور اختتامی تقریب پر 30 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ
بنت فیسٹیول 2026 کی تیاریوں پر روشنی
لاہور(آئی این پی) لاہور میں بسنت فیسٹیول 2026 کی افتتاحی اور اختتامی تقریب پر 30 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے جبکہ بسنت کیلئے اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسوں کو ثقافتی رنگوں سے سجا دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی وزیر کی ہدایت پر بھارت سے واپس آنے والے 2 بہن بھائی اب کہاں ہیں؟ تفصیلات منظر عام پر
تقریبات کی تفصیلات
تفصیل کے مطابق، بسنت فیسٹیوال 2026 کی افتتاحی اور اختتامی تقریب پر 30 کروڑ روپے کے اخراجات کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ وینڈر نے بسنت تقریبات پر آنے والے اخراجات کی تفصیلات حکومت پنجاب کو پیش کر دی ہیں۔ جلال صلاح الدین اینڈ پروڈکشن نے تقریبات کی مد میں تیس کروڑ روپے کا تخمینہ دیا ہے۔ لاہور کے تاریخی شاہی قلعہ میں بسنت کی افتتاحی اور آصف جاہ کی حویلی میں اختتامی تقریبات ہوں گی، ان دونوں تقریبات پر 500 سے زائد افراد کا انتظام کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: محسن نقوی پاک، بھارت میچ دیکھنے کیلئے کولمبو پہنچ گئے، روایتی ڈھول اور رقص سے استقبال
سفری سہولیات
ادھر لاہور میں بسنت کی تیاریاں عروج پر ہیں، ایسی میں اسپیڈو اور گرین الیکٹرک بسیں بھی ثقافتی رنگوں سے سجا گئی ہیں جبکہ 6 سے 8 فروری تک بسنت کے 3 روز کے دوران مفت سفری سہولت فراہم کرنے کے لیے اقدامات بھی مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس حوالے سے وزیر ٹرانسپورٹ پنجاب کا کہنا ہے کہ میٹرو، اورنج لائن، اسپیڈو اور الیکٹرک بسوں میں لوگ مفت سفر کر سکیں گے۔ بسنت کے لیے ضلع لاہور اور پنجاب کی حدود کے باہر سے پتنگ بازی کا سامان لانے کی مشروط اجازت دی گئی ہے، دھاتی ڈور اور ممنوعہ کیمیکل کے استعمال پر زیرو ٹالرنس پالیسی ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: پولیس افسران کی اکثریت ایمانداری سے تفتیش نہیں کر سکتی نوکری خطرے میں ہوتی ہے، سیاستدان ایماندار افسران اپنے علاقے میں برداشت نہیں کر سکتے
موسمی حالات
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بسنت کے تینوں دن اچھا موسم ہوگا، بادلوں کے ساتھ ساتھ اچھی ہوائیں بھی چلیں گی اور لاہور والے موسم بہار کے تہوار کو بھرپور طریقے سے انجوائے کر سکیں گے۔ دوسری جانب لاہور کے علاقے ویلنشیا ٹان میں پتنگ کی ڈور پھرنے سے 10 سالہ بچہ شدید زخمی ہو گیا۔ صوبائی دارالحکومت میں مصطفی آفندی نامی بچے کے گلے پر پتنگ کی ڈور پھری، زخمی بچے کو قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں اسے فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بچے کی حالت خطرے سے باہر ہے اور طبی امداد کے بعد اسے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔
سیکیورٹی اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات
ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے سیف سٹی کیمروں کی مدد سے ذمہ دار پتنگ بازوں کی نشاندہی کرنے کا حکم دے دیا ہے، اور کہا ہے کہ اس واقعے میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ ڈی آئی جی آپریشنز نے شہر بھر میں غیر قانونی پتنگ بازی کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ مقررہ تاریخوں کے علاوہ پتنگ بازی مکمل طور پر ممنوع ہے اور صرف اجازت یافتہ دنوں میں ہی پتنگ بازی کی اجازت ہو گی۔ فیصل کامران کا کہنا تھا کہ پتنگ بازی ایکٹ کی خلاف ورزی جان لیوا جرم ہے اور اس پر زیرو ٹالرنس پالیسی اپنائی گئی ہے۔








